سیلاب متاثرہ علاقوں میں بحالی منصوبہ تعطل کا شکار، وفاقی حکومت منصوبہ ہمارے حوالے کرے،وزیراعلیٰ بلوچستان
کوئٹہ(خصوصی رپورٹ)وزیرِ اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے تعمیر شدہ 250گھروں کی چابیاں 2022 کے سیلاب متاثرین کے حوالے کر دیں۔سرفراز بگٹی نے سیلاب متاثرین کو گھروں کی چابیاں حوالے کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے سیلاب متاثرہ علاقوں میں وفاقی حکومت کا بحالی منصوبہ تعطل کا شکار ہے، بلاول بھٹو بلوچستان کے سیلاب متاثرین کی بحالی کے منصوبے کی پیش رفت سے متعلق پوچھتے رہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت یہ منصوبہ ہمارے حوالے کرے، 8سے 9ماہ میں اسے مکمل کر دیں گے، پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت منصوبہ پایہ تکمیل تک پہنچا کر متاثرین کے لیے ریلیف یقینی بنائیں گے، سندھ کی طرز پر گھروں کی تعمیر مکمل کر کے غریب متاثرین کے حوالے کریں گے۔سرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت یہ کام کر سکتی ہے تو ہم بھی یہ استعدادِ کار رکھتے ہیں، سیلاب متاثرین کی بحالی کے منصوبے کی جلد تکمیل کے خواہاں ہیں، بلوچستان بدل رہا ہے اور بدلے گا، سب مل کر صوبے کو ترقی کی راہ پر گامزن کریں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان تبدیل ہو رہا ہے، ہم نے اس کے لیے محنت کرنی ہے، بلوچستان میں یتیم بچوں کے لیے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں سے 500روپے ماہانہ کٹوتی کریں گے، ہم سب مل کر بلوچستان میں یتیم بچوں اور بچیوں کے لیے شاندار ادارہ بنائیں گے۔دوسری جانب بلوچستان حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق بلوچستان کے سیلاب سے متاثرہ 5 شہروں کوئٹہ شہر، پشین، قلعہ سیف اللہ اور صحبت پور میں 250 تعمیر شدہ گھر متاثرین کے حوالے کر دیے گئے۔اعلامیے کے مطابق غیر سرکاری فلاحی ادارے کے تعاون سے تعمیر شدہ گھروں کی چابیاں سیلاب متاثرین کے حوالے کی گئی ہیں۔