دریائے سندھ سے روزانہ800ارب کا سونا نکلنے لگا

 تیز رفتاری سے چلنے والے ہمالیہ کے پانیوں میں قیمتی ذرات ہوتے ہیں جو افزودہ ہوتے ہیں
دریا میں سونے کے بڑے ذخائر موجود ہیں‘مالیت600 ارب روپے ہے:میڈیا رپورٹس
لاہور(آئی این پی )دریائے سندھ جو کبھی قدیم تہذیبوں کا گہوارہ تھا اب سونے کی کہانیوں کے ساتھ مسحور کن ہے، تبت سے پاکستان کی جانب بہنے والے دنیا کے قدیم ترین اور طویل ترین دریاں میں سے ایک دریائے سندھ اب مبینہ طور پر روزانہ کروڑوں روپے کا "سونا" اگل رہا ہے۔یہ تاریخی دریا وادی سندھ کی تہذیب کے عروج کا لازمی جزو ہے، یہ دریا نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کی قدیم ترین ثقافت کا بھی حصہ ہے۔رپورٹس میں دعوی کیا گیا ہے  پاکستان دریائے سندھ سے روزانہ 800 ارب روپے کا سونا جمع کرتا ہے جو حیران کن ہے۔میڈیا رپورٹس میں انکشاف کیا گیا ہے  اس قدیم دریا سے اتنی غیر معمولی مقدار میں سونا نکلنے لگا ہے کہ اس نے بہت سے لوگوں کو حیران کر دیا ہے اور دیوالیہ ہونے والی پاکستانی معیشت کے لیے ایک جیک پاٹ کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔معاشی طور پر دیوالیہ پاکستان کے لیے یہ دریا جیک پاٹ ثابت ہو رہا ہے، دریا میں سونے کے بہت بڑے ذخائر مل گئے ہیں جس کی قیمت کروڑوں روپے ہے۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے  دریائے  سندھ میں 600 ارب پاکستانی روپے مالیت کے خزانے موجود ہیں ‘، پاکستان کے صوبہ پنجاب خاص طور پر ضلع اٹک میں دریا سے نکالے گئے سونے اور دیگر قیمتی معدنیات کی بڑی مقدار اس قابل ذکر دعوے کا ثبوت فراہم کرتی ہیں۔پاکستانی میڈیا رپورٹس کے مطابق دریائے سندھ میں پایا جانے والا سونا پاکستان کے شمالی پہاڑی علاقوں سے تیز رفتار پانی کے ذریعے بہہ کر یہاں پہنچتا ہے جہاں یہ دریا کی تہہ میں جمع ہوتا رہتا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دریائے سندھ میں غیر قانونی طور پر کان کنی کے پیش نظر حکومت پاکستان نے دفعہ 144 نافذ کر دی ہے جس کے تحت سونا نکالنے پر پابندی ہے، صوبہ پنجاب کے محکمہ داخلہ نے کہا ہے کہ پلیسر گولڈ جیسی قیمتی معدنیات ملکی خزانے کو بہت فائدہ پہنچا سکتی ہیں۔رپورٹس سے پتہ چلتا ہے کہ سردیوں کے مہینوں میں جب دریائے سندھ میں پانی کی سطح گر جاتی ہے مقامی لوگ غیر قانونی طور پر دریا کے کنارے سے سونے کے ذرات جمع کرتے ہیں، بھاری مشینری کا استعمال اب اس سرگرمی میں ایک عام عمل بن گیا ہے۔پاکستان کی خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت کی ایک سروے رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ ہمالیائی خطے سے سونا نیچے بہہ کر آ رہا ہے اور پشاور کے آس پاس کے علاقوں میں جمع ہو رہا ہے