پنجاب اسمبلی نے دوسرے پارلیمانی سال کی کارکردگی رپورٹ جاری کر دی

پنجاب اسمبلی نے دوسرے پارلیمانی سال کی کارکردگی رپورٹ جاری کر دی

پنجاب اسمبلی نے اپنے دوسرے پارلیمانی سال کی کارکردگی رپورٹ جاری کر دی ہے، جس میں قانون سازی، قراردادوں اور تحریکوں میں نمایاں اضافہ دکھایا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، دوسرے سال میں اسمبلی کے 15 اجلاس ہوئے جو مجموعی طور پر 82 دنوں پر مشتمل تھے، جبکہ 62 عملی نشستیں بھی منعقد ہوئیں۔ اس دوران ایوان میں 109 مسودات قانون پیش کیے گئے، جن میں سے 99 بل منظور ہوئے۔ حکومتی سطح پر پیش کیے گئے تمام 58 بل ایوان سے منظور ہوئے، جبکہ پرائیویٹ ممبرز کی جانب سے 51 بل پیش کیے گئے، جن میں سے 41 منظور اور 10 بل التواء کا شکار رہے۔سوالات اور نوٹسز کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2,399 سوالات جمع کرائے گئے، جن میں سے 749 کے جوابات دیے گئے۔ فوری نوعیت کے 222 سوالات میں سے صرف 10 پر تحریری جواب دیا گیا۔

 کالنگ اٹینشن نوٹسز کی تعداد 384 رہی، جن میں سے 266 منظور ہوئے مگر صرف 71 پر حکومتی جواب ریکارڈ ہوا۔ زیرو آور نوٹسز کی تعداد 508 رہی، جن میں 355 منظور ہوئے اور 67 پر جواب دیا گیا۔ارکان اسمبلی کی جانب سے مراعات کے لیے 54 تحریکیں جمع کرائی گئیں، جن میں سے 38 منظور ہوئیں۔ 418 التواء کار کی تحریکیں جمع کرائی گئیں، جن میں 191 منظور اور 222 نمٹائی گئیں جبکہ 40 اب بھی زیر التواء ہیں۔دوسرے پارلیمانی سال کے دوران 270 قراردادیں جمع کرائی گئیں، جن میں سے 182 منظور اور 88 زیر کارروائی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، دوسرا پارلیمانی سال پہلے کے مقابلے میں زیادہ فعال اور نتیجہ خیز رہا۔