بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی ناقص کارکردگی‘ قومی خزانے کو 2 ہزار 872 ارب کا نقصان

مالی سال 24-2023ء  میں بجلی کی تقسیم کے نقصانات 591 ارب روپے تک پہنچ گئے، معیشت  پر اثر پڑ رہا ہے:نیپرا کی رپورٹ
اسلام آباد(آن لائن) پاکستان کی بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی ناقص کارکردگی اور کم وصولیوں کے سبب 11 سالوں میں پاور سیکٹر کو 2 ہزار 872 ارب روپے کا مالی نقصان ہوا ہے۔ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کے ذرائع کے مطابق  یہ نقصان 2014 سے لے کر 30 ستمبر 2025 تک کے دوران ہوا، جس میں سب سے زیادہ نقصان مالی سال 24-2023ء  میں 591 ارب روپے کا ہوا۔نیپرا کے اعداد و شمار کے مطابق، اس عرصے میں بجلی کی کم وصولیوں کی مد میں 1640 ارب روپے کا نقصان اور بجلی کی ترسیل و تقسیم کی مد میں 1232 ارب روپے کا نقصان قومی خزانے کو ہوا۔ ان نقصانات نے نہ صرف قومی اقتصادیات کو متاثر کیا ہے بلکہ عوامی خدمات اور بجلی کی فراہمی کے معیار کو بھی کمزور کیا ہے۔نیپرا کے ذرائع کے مطابق، اس عرصے میں سب سے کم نقصان مالی سال 16-2015ء  میں 82 ارب روپے کا ہوا، جبکہ حالیہ مالی سال کے ابتدائی تین ماہ میں صرف بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کو 171 ارب روپے کا نقصان ہوا ہے۔پاکستان کے توانائی کے شعبے میں اس نوعیت کے بڑے نقصانات کی بنیادی وجہ بدانتظامی، کم وصولیاں، اور پرانی بجلی کی ترسیل و تقسیم کے نظام کی ناکامی ہے۔ ان نقصانات کا اثر پورے ملک کی معیشت پر پڑ رہا ہے اور حکومت کو اس بحران سے نمٹنے کے لیے فوری اصلاحات کی ضرورت ہے۔