سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے قتل پر اکسانے کا کیس‘ پیر ظہیر الحسن کو 10 سال قید کا حکم

ملزم نے 2024 میں کارکنوں کو سابق چیف جسٹس کے قتل پر اکسایا‘ قتل کرنے والے کیلئے ایک کروڑ انعام کا اعلان کیا،  مذہبی جماعت کی ریلی سے خطاب کیا
ملزم کے وکیل نے الزامات کی صحت سے مکمل انکار نہیں کیا، پیر ظہیر الحسن شاہ کیخلاف تھانہ قلعہ گجر سنگھ میں مقدمہ درج ہوا تھا‘خصوصی عدالت نے فیصلہ سنا دیا
لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) انسداد دہشت گردی عدالت نے سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے قتل پر اکسانے کے مقدمہ میں پیر ظہیر الحسن شاہ کو 10 سال قید کی سزا کا حکم سنا دیا۔عدالت نے سزا کے بعد پیر ظہیر الحسن شاہ کو جیل منتقل کرنے کا حکم دے دیا، انسداد دہشتگردی عدالت کے جج ارشد جاوید نے فیصلہ سنایا۔ملزم کو حتمی بحت اور فیصلہ کیلئے جیل سے عدالت میں پیش کیا گیا، دوران ٹرائل مقدمہ کے 15 گواہان نے شہادت ریکارڈ کرائی۔ڈپٹی پراسیکیوٹر عبد الجبار ڈوگر نے ملزم کو سزا دینے کی استدعا کی، ملزم کی جانب سے رانا مقصود الحق ایڈووکیٹ نے حتمی بحث کی۔ملزم کے وکیل نے الزامات کی صحت سے مکمل انکار نہیں کیا، پیر ظہیر الحسن شاہ کیخلاف تھانہ قلعہ گجر سنگھ مین مقدمہ درج ہوا تھا۔ملزم نے شملہ پہاڑی کے پاس اعلی عدالتی شخصیت کیخلاف اشتعال انگیز تقریر کی، ملزم نے 2024 میں کارکنان کو سابق چیف جسٹس کے قتل پر اکسایافیصلے کے مطابق ملزم نے قتل کرنے والے کیلئے ایک کروڑ انعام کا اعلان کیا، ملزم نے مذہبی جماعت کی ریلی سے خطاب میں تقریر کی تھی۔