امجد علی
کھول آنکھ زمیں دیکھ فلک دیکھ فضا دیکھ
مشرق سے نکلتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
عالم انسانی میں صاحب چشم تو اربوں نفوس ہیں مگر تاریخ کے آئینے میں جھانکیں تو دیدہ ور اتنے قلیل ہیں کہ انہیں نایاب لکہنا بیجا نہ ہو گا۔ اسی حقیقت کو شاعر مشرق نے اپنے الفاظ میں یوں کہا، "بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا". یوں تو انگنت ستارے ہر رات افق کی سیاہ چادر کو جھلمل روشنیوں سے بھر دیتے ہیں مگر کچھ ستارے ہزاروں سالوں بعد جلوہ گر ہوتے ہیں۔ ایسے ہی تاریک راتوں میں اکیلے چمکنے والا اقبال نامی ستارہ 1877 میں آسمان شعور پر نمودار ہوا۔ پھر اکیس اپریل 1938 کا دن تاریخ کے افق پر ایک اندوہناک لمحہ بن کر ابھرا، جب ایک روشن ستارہ—جو 61 برس تک فکری اْفق پر ضوفشانی کرتا رہا—خاموشی سے غروب ہو گیا۔ مگر یہ ستارہ محض ایک فرد نہ تھا، وہ چراغ تھا جس کی لو آج بھی زمانوں کو منور کر رہی ہے۔ علامہ محمد اقبال?—شاعر مشرق، مفکر اسلام، حکیم الامت—وہ عظیم روح تھے جنہوں نے خوابوں کو تعبیر دی، اور غلام ذہنوں کو خودی کا شعور عطا کیا۔ ان کی فکر کی ایسی گہرائیاں ہیں کہ دنیا بھر کی جامعات نے ہزاروں محققین کو ان کے فلسفے پر جھکا دیا، مگر پھر بھی پیاس بجھ نہ سکی، تشنگی کم نہ ہوئی۔
آج، اکیس اپریل 2025 کو جب ان کے وصال کو اکاسی برس بیت چکے ہیں، دل پھر سے اداس ہے، روح پھر سے سوال کناں ہے۔ بادشاہی مسجد کے سائے میں آج بھی علم سے عشق رکھنے والے دل، عقیدت سے ان کے مزار پر حاضری دیتے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے: کیا ہم نے اقبال کو صرف یاد رکھنے کا نام ہی عقیدت رکھ چھوڑا ہے؟ یا ہم نے ان کے پیغام کو اپنی سوچ، اپنے کردار، اپنی نسلوں کی تربیت کا حصہ بنایا؟ کیا ہم نے اپنی نوجوان نسل کو اْس اقبال سے روشناس کرایا ہے جو ہر دل میں خودی کی چنگاری روشن کر کے، اْسے شاہین کی پرواز عطا کرنا چاہتا تھا؟ یہ دن صرف یاد کا نہیں، یہ دن عہدِ نو کا پیغام دیتا ہے—کہ ہم سوچیں، جاگیں، اور اْس خواب کی تعبیر بنیں جسے اقبال نے ہمارے لیے دیکھا تھا۔ مگر دیکھنا یہ بھی ہے کہ کیا ہم واقعی اقبال کے پیغام کو اپنی زندگیوں میں جذب کر پائے ہیں؟ کیا ہم نے نوجوان نسل کو اْس انقلابی فکر سے روشناس کرایا ہے جو ان کی روح میں تحرک اور خودی کی آگ بھڑکا دے؟ وہ بلند ہمت میر کارواں ہیں اپنی فکر کی قوت سے شعر کی زمیں پر جب لفظوں کے قدم رکھتے ہیں تو ایک ہی جست میں آسماں پر ہوتا ہے۔ وہ سخنوری کی ایسی کرن ہے جس کے آگے ہزاروں آفتاب معدوم ہیں۔
نگاہ بلند سخن دلنواز جاں پر سوز
یہی ہے رخت سفر میر کارواں کے لیے
علامہ اقبال کی حیات و فکر کا محور انسان، اس کی روحانی عظمت اور اسلام کی آفاقی تعلیمات تھیں۔ انہوں نے مغربی تہذیب کی ظاہری چمک دمک کے پسِ پردہ چھپی فکری افلاس کو بے نقاب کیا اور امتِ مسلمہ کو ان کی گم شدہ خودی کا شعور عطا کیا۔ اقبال کی زندگی کائنات، اقوامِ عالم، انسانی رویّوں اور مذاہب، بالخصوص دینِ اسلام کی گہری تفہیم میں بسر ہوئی۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے یونانی، اسلامی اور مغربی مفکرین جیسے مولانا رومی، پیر جامی، نطشے، گوئٹے، کارل مارکس، آئن سٹائن، شوپن ہاور، دانتے، برگساں اور ملٹن کے افکار سے بصیرت حاصل کی۔ بحیثیت ایک وسیع النظر شاعر اور مفکر، انہوں نے ان دانشوروں کے خیالات کا نہ صرف عمیق مطالعہ کیا بلکہ کھلے دل و دماغ سے ان کے افکار کے مثبت اور تعمیری پہلوؤں کو قبول کیا۔ اقبال نے علم و حکمت کے ان متنوع سرچشموں سے جو روشنی حاصل کی، اسے اپنی ملت کے نوجوانوں کی فکری تربیت کے لیے استعمال کیا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری محض الفاظ کا حسین امتزاج نہیں، بلکہ ایک ہمہ گیر فکری تحریک ہے۔ ان کے کلام میں پیغام ہے، سوز و درد ہے، عمل کی دعوت ہے، اور سب سے بڑھ کر ایک روحانی بیداری کی دل آویز صدا ہے۔ اقبال کی شاعری امتِ مسلمہ کی یکتائی اور یکجائی کی آرزو کا آئینہ ہے
اقبال محض ایک شاعر نہیں بلکہ وہ خودی اور شاہین کا استعارہ ہیں وہ اپنی ذات میں الفاظ و فکر کا ایک مکمل ملکوتی جہان ہیں۔ ان کے نزدیک بندگی کسی کے حضور محض جھکنے کا نام نہیں۔ یہ صرف چند ظاہری عبادات یا رسوم کا نام نہیں، بلکہ یہ وہ شعورِ عبدیت ہے جو انسان کو رب سے ہمکلام کرتا ہے۔ وہ بندگی جو انسان کو غیر اللہ کی غلامی سے نجات دلاتی ہے، جو انسان کو مقصد، جدوجہد، اور حرکت کا شعور عطا کرتی ہے۔ ان کے نزدیک وہی بندگی اصل ہے جو انسان کو اپنی ذات سے بلند کر کے اللہ کی رضا میں فنا کر دے۔ وہ کہتے ہیں:
مقامِ بندگی دے کر نہ لوں شانِ خداوندی
پرواز ہے دونوں کی اسی ایک فضاء میں
کرگس کا جہاں اور ہے، شاہیں کا جہاں اور
ایسی بندگی، جس میں انسان ہر غیر اللہ سے لاتعلقی اختیار کر کے صرف اپنے رب کے در پر سجدہ ریز ہو۔ جو کلمہ اس طرح پڑھے کہ لا الہ الااللہ کا عین ہو جائے۔ جو فناء کے سینے سے بقاء کو پیدا کرے، وہی حقیقی آزادی ہے۔
وہ اک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے
ہزار سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات
اقبال کے نزدیک جب بندہ خالص ہو کر اللہ کا ہو جاتا ہے، تو پھر اس کے ارادے، اس کے عمل، اس کا ہر فیصلہ اللہ کی رضا کا مظہر بن جاتا ہے۔ اقبال کی فکر کا دوسرا مرکزی نکتہ "خودی" ہے—یعنی اپنے آپ کو پہچاننا۔ وہ بار بار انسان کو اس کی فطری عظمت کا احساس دلاتے اس قول زریں کی طرف توجہ دلاتے ہیں:
من عرفہ نفسہ فقد عرفہ ربہ
(جس نے خود کو پہچانا، اس نے اپنے رب کو پہچانا)
بندہ مؤمن شو، کہ بندہ اے خداست
خاک او بر فرقِ تاجِ پادشاہست
(ترجمہ: مؤمن بندہ بن، کیونکہ وہی اللہ کا بندہ ہے؛ اْس کی خاک بادشاہوں کے تاج پر فضیلت رکھتی ہے
مرا طریق امیری نہیں فقیری ہے
خودی نہ بیچ غریبی میں نام پیدا کر
اقبال کا انسان ستاروں سے مرعوب نہیں ہوتا، بلکہ ان کی تسخیر کا عزم اپنے سینے میں لیے ہوئے ہوتا ہے۔ اقبال اپنے اشعار کے ذریعے عقل کے دروازے ایک ایک کر کے کھولتے ہیں، یہاں تک کہ صدیوں بعد بھی صاحبِ فہم و ادراک افراد ان کے کلام کو پڑھ کر حیرت میں ڈوب جاتے ہیں۔ ان کا تصورِ انسان، ایک ایسی نظر کا حامل ہے جو پلک جھپکنے کے لمحے میں لامحدود افلاک کے پھیلاو? کو اپنی بصیرت کی گرفت میں لے لیتا ہے۔
اقبال کے نزدیک زمین کا انسان دراصل کائناتی وسعتوں کا حقیقی وارث ہے، کہ یہ سب افلاک، اس کے شایانِ شان آراستہ کیے گئے ہیں۔ درحقیقت، انسان کی تخلیق ستاروں سے کہیں بالا تر ہے۔ وہ افلاک میں ہونے والی عقلی جانچ میں کلی علیین جیسے نورانی وجود کو بھی پیچھے چھوڑ دینے والا ایک فاتح ہے، جسے کسی عظیم مقصد کے تحت زمین پر اتارا گیا ہے۔ پھر اقبال سوال اٹھاتے ہیں کہ اتنے عظیم مرتبے کا حامل انسان کیسے اور کیوں ستاروں کو اپنی قسمت کا رازداں سمجھ بیٹھتا ہے؟ وہ کیوں مقامِ بندگی کو فراموش کر کے نجوم و افلاک سے رہنمائی کا طلب گار ہوتا ہے؟ اقبال پکار اٹھتے ہیں۔
‘‘یہی ستاروں کی گردشیں، یہی نظامِ فلک
کسی فقیر کی جھونپڑی، کسی شہنشاہ کا محل
تیرے لیے نہیں کچھ بھی، اگر تو خودی شناس
کہ تْو ہے صاحبِ تقدیر، تْو ہے رازِ ازل"
ستارہ کیا میری تقدیر کی خبر دے گا
وہ خود فراخیِ افلاک میں ہے خوار و زبوں
اقبال کی اپنے نوجوان سے توقعات بہت بلند ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ مسلم نوجوان سستی، جمود اور لاپرواہی کی زنجیریں توڑ کر ایک متحرک، بیدار، اور تخلیقی کردار ادا کرے۔ ان کا یہ پیغام واضح ہے۔
عبث ہے شکو? تقدیرِ یزداں
تو خود تقدیرِ یزداں کیوں نہیں ہے
اقبال کی شاعری میں انسان کو کائنات کا فعال عنصر قرار دیا گیا ہے۔ اللہ نے اسے عقل، ارادہ، اختیار، اور قوتِ عمل سے نوازا ہے تاکہ وہ زمین کو سنوارے، اندھیروں میں اجالا کرے، اور ہر روز نئی دنیا کی تعمیر کرے۔ وہ بندہ? مومن کو اللہ کا دستِ قدرت قرار دیتے ہیں:
ہاتھ ہے اللہ کا بندہ? مومن کا ہاتھ
غالب و کار آفریں، کار کشا، کار ساز
یہ بندگی کوئی جامد اطاعت نہیں، بلکہ مسلسل ارتقاء ، نئی فتوحات اور مسلسل جدوجہد کا نام ہے۔ یہی وہ بندگی ہے جو انسان کو اشرف المخلوقات بناتی ہے، اسے فرشتوں پر فوقیت عطا کرتی ہے اور خلا کی وسعتوں میں پرواز کی ہمت دیتی ہے۔ اقبال کا خواب صرف نظریاتی نہیں، بلکہ ایک عملی دستورِ حیات ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ مسلمان نوجوان اپنی ذات کی گہرائیوں میں جھانک کر خودی کی وہ شمع روشن کرے جو دنیا کی تاریکیوں کو نور سے منور کر دے۔ وہ سجدے کرے، مگر ایسے کہ اس کا ہر سجدہ اسے نئی بلندی عطا کرے۔ وہ زمین پر رہے، مگر افلاک سے بلند ہو جائے۔ وہ مٹی سے بنے، مگر عزم و کردار میں فولاد ہو۔
افلاک سے ہے اس کی حریفانہ کشا کش
خاکی ہے مگر خاک سے آزاد ہے مومن
نہ تو زمیں کے لیے ہے, نہ آسماں کے لیے
جہاں ہے تیرے لیے، تو نہیں جہاں کے لیے
اقبال کی فکر ہمیں مایوسی سے نکال کر امید، عمل، یقین اور قربِ الٰہی کے راستے پر گامزن کرتی ہے۔ آج ضرورت ہے کہ ہم اقبال کے فلسفہ بندگی کو محض تقریروں تک محدود نہ رکھیں، بلکہ اس کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں جذب کر لیں۔ کہ یہی واحد طریقہ ہے جس کے ذریعے ہم امت مسلمہ اور اپنی قوم کو کھوئی ہوئی شان و شوکت واپس دلا سکتے ہیں۔ آئیے اپنے محبوب شاعر کے کچھ اشعار سے تحریک اور لطف لیتے ہیں۔
افلاک سے آتا ہے نالوں کا جواب آخر
کرتے ہیں خطاب آخر اٹھتے ہیں حجاب آخر
خلوت کی گھڑی گزری جلوت کی گھڑی آئی
چھٹنے کو ہے بجلی سے آغوش سحاب آخر
تھا ضبط بہت مشکل اس سیل معانی کا
کہہ ڈالے قلندر نے اسرار کتاب آخر
پس از من شعرمن خوانند و دریا بند ومیگویند
جہانے را دگر گوں کرد یک مرد خود آگاہے!
دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے
پر نہیں رکھتی طاقت پرواز مگر رکھتی ہے
خودی میں ڈوب جا غافل! یہ سر زندگانی ہے
نکل کر حلقہ شام و سحر سے جاوداں ہو جا
نہیں ہے نااْمید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساق