ویب ڈیسک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے درمیان اہم ملاقات چار گھنٹے تک جاری رہی، تاہم یوکرین جنگ بندی پر کوئی اتفاق نہ ہو سکا۔
ملاقات میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف بھی شریک تھے۔مشترکہ پریس کانفرنس میں سب سے پہلے صدر پیوٹن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ کے ساتھ مذاکرات تعمیری رہے، اور انہوں نے الاسکا میں ملاقات کی دعوت دینے پر ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ "یوکرینی عوام ہمارے بھائی ہیں، موجودہ صورتحال ایک سانحہ ہے اور روس کے لیے دکھ کا باعث ہے۔"پیوٹن نے زور دیا کہ دیرپا امن کے لیے جنگ کی بنیادی وجوہات ختم کرنا ضروری ہے، اور دنیا بھر میں سلامتی کے توازن کو بحال کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ "اگر 2022 میں ٹرمپ صدر ہوتے تو یوکرین جنگ کی نوبت نہ آتی۔" ساتھ ہی پیوٹن نے ٹرمپ کو ماسکو میں اگلی ملاقات کی دعوت بھی دی۔امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں کہا کہ ملاقات میں کئی معاملات پر پیش رفت ہوئی ہے مگر یوکرین کے سب سے اہم نکتے پر اتفاق نہیں ہوسکا۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ جلد یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی اور نیٹو رہنماؤں سے رابطہ کریں گے۔ ٹرمپ نے امید ظاہر کی کہ "ممکن ہے یوکرین کے معاملے پر روس سے سمجھوتہ ہو جائے۔"صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر سن 2016 کے صدارتی انتخابات میں روسی مداخلت کے الزامات کو "دھوکہ دہی" قرار دیا اور کہا کہ وہ صدر پیوٹن سے دوبارہ ٹیلی فونک رابطہ کریں گے۔یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب یوکرینی صدر زیلنسکی نے اپنے ردعمل میں کہا کہ "پیوٹن اور ٹرمپ کی ملاقات سے قبل بھی روسی حملے جاری تھے اور روس کی طرف سے جنگ روکنے کا کوئی اشارہ نہیں ملا۔"