یو اے ای میں 18سالہ خواتین کو سرپرست کی اجازت کے بغیر پسند کی شادی کی اجازت

   ابوظہبی(آئی این پی )متحدہ عرب امارات میں وفاقی پرسنل اسٹیٹس قانون میں تبدیلیوں کا اطلاق ہوگیا ۔خلیج ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق نئے قانون کی نقل میں پہلی بار ان معاملات کو ریگولیٹ کرنے کی دفعات متعارف کرائی گئی ہیں۔اماراتی حکومت کے مطابق نئے قانون کی دفعات لچک، طریقہ کار کو آسان بنانے، تصورات اور قانونی مدتوں کو یکجا کرنے کی خصوصیت کی حامل ہیں۔ نئے قانون کے مطابق خواتین اپنی پسند کے شریک حیات سے شادی کر سکتی ہیں۔ حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ شادی کی قانونی عمر 18سال ہے، اگر 18سال سے زائد عمر کا کوئی شخص شادی کرنا چاہتا ہے، لیکن اسے اپنے سرپرست کی جانب سے انکار کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو اسے جج کے پاس اپیل کرنے کا حق حاصل ہے۔قانون ان جوڑوں کو بھی بااختیار بناتا ہے، جو ایسی عمر تک نہیں پہنچے کہ وہ قانونی سرپرست یا نگہبان کی ضرورت کے بغیر اپنی شادی سے متعلق معاملات کو آزادانہ طور پر منظم کرسکتے ہیں۔