بیرونی فنڈز سے پہلے ہم اپنے وسائل استعمال کر رہے ہیں،موسمیاتی اور زرعی ایمرجنسی کے تحت جو کرنا پڑا کریں گے، ملکی معیشت بہتری کی جانب گامزن ہے ، اقدامات کر رہے ہیں کہ مصنوعی مہنگائی پیدا نہ ہو
حالیہ سیلاب میں ریلیف آپریشن جیسی مثال تاریخ میں نہیں ملتی، افواج پاکستان کے بھی بے حد شکر گزار ہیں، اللہ کرے پانی جلد اترے، کسانوں کے نقصانات کے تخمینے کیلئے کمیٹی بنائی ہے ،وفاقی وزیر خزانہ
کمالیہ(آئی این پی )وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ سیلاب متاثرین کو بجلی کے بل بھیجنا مناسب نہیں، آئی ایم ایف نے اس صورتحال کو سمجھ لیا ہے، بیرونی فنڈز سے پہلے ہم اپنے وسائل استعمال کر رہے ہیں،موسمیاتی اور زرعی ایمرجنسی کے تحت جو کرنا پڑا کریں گے۔ان خیالات کااظہار انہوں نے کمالیہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ حالیہ سیلاب میں ریلیف آپریشن جیسی مثال تاریخ میں نہیں ملتی، ہم افواج پاکستان کے بھی بے حد شکر گزار ہیں ۔ اللہ کرے پانی جلد اترے اور اگلی فصلیں کاشت ہو سکیں۔محمد اورنگزیب نے کہا کہ سڑکیں، پل، لوگوں کے مکان اور املاک تباہ ہوئی ہیں، ہم نے اس اسٹرکچر کو دوبارہ پہلے جیسا بنانا ہے ۔ ساری دنیا دیکھ رہی ہے کہ پاکستانی عوام کس مشکل سے گزر رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ آفت زدہ عوام کو ابھی بجلی کے بل بھیجنا مناسب نہیں، ہم پہلے ہی آئی ایم ایف کے پروگرام میں شامل ہیں ۔ فنڈز سے پہلے ہم اپنے وسائل استعمال کر رہے ہیں، آئی ایم ایف نے اس صورتحال کو سمجھ لیا ہے۔ محمد اورنگزیب نے کہا موسمیاتی اور زرعی ایمرجنسی ڈکلیئر کی جاچکی ہے، ایمرجنسی کے تحت جو کرنا پڑا کریں گے۔ کسانوں کے نقصانات کے تخمینے کیلئے کمیٹی بنائی ہے، ہم حقائق پر مبنی بات کر رہے ہیں، اس وقت اہم چیز لوگوں کی امداد ہے۔انہوں نے کہا کہ سیلاب کے نقصانات کا تخمینہ لگانے کے لئے سروے کئے جارہے ہیں، سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا جائزہ لیا جارہا ہے، وزیراعظم اور آرمی چیف بھی متاثرہ علاقوں میں جارہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ملک کی معیشت بہتری کی جانب گامزن ہے، عالمی سطح پر فیول کی قیمت میں کمی آرہی ہے تو عالمی مہنگائی کا مسئلہ نہیں، اقدامات کر رہے ہیں کہ مصنوعی مہنگائی پیدا نہ ہو۔