اربن فلڈنگ روکنے کیلئے پالیسی بنانے کافیصلہ( قوم مصیبتوں کے سامنے ہتھیار ڈالنے والی نہیں شہبازشریف
وزارت موسمیاتی تبدیلی کلائمیٹ ریزیلینس ایکشن پلان پر صوبوں کے ساتھ کوآرڈینیشن کرے گی، اربن فلڈنگ اور جنگلات کے کٹا ئوکے معاملے پر مشاورت کی جائے گی‘نئی حکمت عملی بنائی جائیگی
وزیراعلی پنجاب مریم نواز کی سیلاب کے دوران امدادی کارروائیاں قابل تعریف ہیں، میں نے تمام اداروں کو کسی بھی ہنگامی صورت حال میں مکمل تعاون فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے:وزیراعظم
ٹی چوک فلائی اوور کا سنگ بنیاد ‘پاکستان اگلی شنگھائی تعاون تنظیم کی میزبانی کرے گا‘ الیکٹرک ٹرانسپورٹ کے بعد اسلام آباد سے راولپنڈی کے مسافروں کیلئے ریل کی سہولت بھی دی جائے گی : تقریب سے خطاب
اسلام آباد(آئی این پی‘آن لائن )وزیراعظم شہباز شریف نے بجلی کے بلوں میں ریلیف دینے کے لیے وزارت خزانہ کو آئی ایم ایف سے رابطہ کرنے کی ہدایت کر دی۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ وزارت خزانہ آئی ایم ایف کے ساتھ ممکنہ ریلیف پر بات چیت کرے، شہر ہوں یا دیہات، ریلیف پورے پاکستان کے سیلاب زدہ علاقوں میں دیا جائے گا۔علاوہ ازیں حکومت نے اربن فلڈنگ پر قابو پانے کے لئے نیا لائحہ عمل اور پالیسی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے، ملک بھر میں حالیہ تباہ کن سیلابی صورتحال پر وزارتِ موسمیاتی تبدیلی متحرک ہوگئی۔وزارت موسمیاتی تبدیلی کے حکام کے مطابق وزیراعظم نے وزارتِ موسمیاتی تبدیلی کو اربن فلڈنگ اور جنگلات کے بے دریغ کٹا ئوپر فوری اقدامات کا ٹاسک سونپ دیا ہے، وزیراعظم نے صوبوں کو کلائمیٹ ریزیلینس ایکشن پلان کے اہداف تیار کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔حکام کے مطابق وزارت موسمیاتی تبدیلی کلائمیٹ ریزیلینس ایکشن پلان پر صوبوں کے ساتھ کوآرڈینیشن کرے گی، وزارت موسمیاتی تبدیلی صوبوں سے اربن فلڈنگ اور جنگلات کے کٹا ئوکے معاملے پر مشاورت کرے گی، وزارت موسمیاتی تبدیلی کی طرف سے صوبوں سے اس معاملہ پر رائے طلب کی جائے گی۔صوبوں کے ساتھ اربن فلڈنگ کو روکنے اور شہری علاقوں میں ڈرینیج سسٹم بہتر بنانے پر فوکس کیا جائے گا، وزارت موسمیاتی تبدیلی جنگلات کے کٹا پر قابو پانے کے لیے صوبوں سے پالیسی پر بات چیت کرے گی، پالیسی کے ذریعے آئندہ ممکنہ سیلابی خطرات کو کم کرنے کی حکمت عملی بنائی جائے گی۔دریں اثناء شہباز شریف نے کہاہے کہ وزیر اعلی پنجاب مریم نواز کی سیلاب کے دوران امدادی کاروائیوں کے حوالے سے کوششیں قابل تعریف ہیں۔سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر پیغام دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پنجاب کے ساتھ ساتھ خیبر پختونخوا، سندھ، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کی قیادت کی انتھک لگن بھی تعریف کے قابل ہے۔انہوں نے کہا کہ اس قدرتی آفت سے بے پناہ مسائل و چیلنجز نے جنم لیا ہے، پھر بھی ہمارے کسانوں، مزدوروں، خواتین اور بچوں نے غیر معمولی ہمت کا مظاہرہ کیا ہے۔ پاکستانی قوم مصیبتوں و صعوبتوں کے سامنے ہتھیار ڈالنے سے انکاری ہیں۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ میں نے تمام متعلقہ وفاقی محکموں بشمول این ڈی ایم اے اور وزات موسمیاتی تبدیلی کو کسی بھی ہنگامی صورت میں مکمل تعاون فراہم کرنے کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کی ہے۔شہباز شریف نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان اگلی شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سمٹ کی میزبانی کرے گا، جس کے لیے حکام کو ابھی سے تیاری شروع کرنی ہوگی۔ ٹی چوک فلائی اوور کے سنگ بنیاد کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ٹی چوک فلائی اوور اسلام آباد، راولپنڈی اور گرد و نواح کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ مختصر وقت میں کسی بھی منصوبے کو مکمل کرنے کے لیے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایک کلومیٹر فلائی اوور سے ایکسپریس وے اور دیگر علاقوں تک آمد و رفت آسان ہوگی۔ اسلام آباد سے راولپنڈی کے مسافروں کے لیے ریلکی سہولت بھی مہیا کی جائے گی، اس سے قبل میٹرو اور بس سروس، نئی بسیں اور الیکٹرک ٹرانسپورٹ بھی فراہم کی جا چکی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ریل کی پٹری موجود ہے اور اس منصوبے کے مکمل ہونے سے اسلام آباد اور راولپنڈی کی عوام کے لیے ایک بہترین سہولت فراہم ہوگی