ویب ڈیسک: اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اکاؤنٹ کو بند کرنے سے متعلق کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان کو تحریری جواب جمع کرانے کے لیے مہلت دے دی۔
دورانِ سماعت بیرسٹر گوہر نے مؤقف اختیار کیا کہ پی ٹی آئی اس اکاؤنٹ کی ملکیت کا دعویٰ نہیں کرتی، جبکہ عدالت نے کیس کی مزید سماعت 23 نومبر تک ملتوی کر دی۔جسٹس ارباب محمد طاہر نے غلام مرتضیٰ کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کی۔ اس موقع پر چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان ذاتی حیثیت میں عدالت میں پیش ہوئے۔ بانی پی ٹی آئی کے وکلا خالد یوسف چودھری اور شمسہ کیانی، نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے حکام اور دیگر متعلقہ افراد بھی عدالت میں موجود تھے۔سماعت کے دوران جسٹس ارباب محمد طاہر نے بیرسٹر گوہر سے کہا کہ انہیں ذاتی طور پر پیش ہونے کے لیے نہیں بلایا گیا تھا بلکہ تحریری جواب بھی جمع کرایا جا سکتا تھا۔ اس پر بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پی ٹی آئی اس ایکس اکاؤنٹ کو اپنا اکاؤنٹ تسلیم نہیں کرتی۔چیئرمین پی ٹی آئی نے عدالت سے استدعا کی کہ حالات تبدیل ہو چکے ہیں، اس لیے جواب جمع کرانے کے لیے مزید وقت دیا جائے۔ جسٹس ارباب محمد طاہر نے انہیں ہدایت کی کہ وہ اپنا مؤقف تحریری طور پر عدالت میں جمع کروا دیں۔ بیرسٹر گوہر نے تفصیلی جواب تیار کرنے کے لیے مزید مہلت کی درخواست کی، جس پر عدالت نے کیس کی سماعت 23 نومبر تک ملتوی کر دی۔
مشتبہ اکاؤنٹس سے لاتعلقی کا مؤقف
سماعت کے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے ایکس اکاؤنٹ سے متعلق کیس میں عدالت نے 23 نومبر کی تاریخ مقرر کی ہے اور اس کے بعد جواب جمع کرایا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض مشتبہ اکاؤنٹس کے ساتھ پی ٹی آئی کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
گورنر راج اور ایمرجنسی کی مخالفت
بیرسٹر گوہر نے گفتگو کے دوران گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق بھی اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی نے ہر فورم پر ان اقدامات کی مخالفت کی ہے اور ان کے خیال میں حالات ایسے نہیں تھے کہ گورنر راج یا ایمرجنسی نافذ کی جاتی۔انہوں نے کہا کہ بیوروکریسی میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کی گئی ہیں اور ان کے بقول ایک سیاسی جماعت کو ختم کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ بیرسٹر گوہر نے ان اقدامات کو جمہوریت کے منافی قرار دیتے ہوئے انہیں روکنے کا مطالبہ کیا۔
سہیل آفریدی سے رابطہ نہ ہونے کا دعویٰ
چیئرمین پی ٹی آئی نے دعویٰ کیا کہ 11 اکتوبر کے بعد سے پارٹی کا سہیل آفریدی کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی کے ارکانِ صوبائی اسمبلی اور اسپیکر صوبائی اسمبلی کے ساتھ بھی رابطہ نہیں ہو پا رہا۔
مذاکرات سے متعلق بیرسٹر گوہر کا مؤقف
بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے مذاکرات کی دعوت سے متعلق سوال پر بیرسٹر گوہر نے کہا کہ محض دعوؤں اور غیر مؤثر مذاکرات سے مسائل حل نہیں ہوتے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب مذاکراتی کمیٹی کے ساتھ بات چیت جاری تھی تو اسے کس نے ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے دوران ڈیڈ لاک پیدا ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ بات چیت مکمل طور پر ختم کر دی جائے یا فریقین مذاکرات کی میز سے اٹھ جائیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ مذاکراتی عمل کو روکنے کا فیصلہ کس نے کیا اور اس کی وجہ کیا تھی۔