ایک سال کے دوران 15 لاکھ پاکستانی بچے آن لائن ہراسانی کا شکار ہوئے اقوا م متحدہ

خوف، معاشرتی بدنامی اور گھر میں ممکنہ ردعمل کے خدشات اکثر بچوں کو خاموش رہنے پر مجبور کرتے ہیں، 4 کروڑ 50 لاکھ بچے  بے گھر ہیں: جنرل اسمبلی میں رپورٹ 
نیویارک (آئی این پی )پاکستان میں ایک سال کے دوران انٹرنیٹ استعمال کرنیوالے تقریبا 15 لاکھ بچوں کو آن لائن ہراسانی کا سامنا کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔ میڈیا  رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کی ایک اعلی عہدیدار نے خبردار کیا ہے  مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور دنیا بھر میں بیک وقت جاری بحران بچوں کے لئے نئے خطرات پیدا کر رہے ہیں۔اقوام متحدہ  سیکرٹری جنرل کی بچوں کے خلاف تشدد سے متعلق خصوصی نمائندہ نجت معلا مجید نے جنرل اسمبلی میں رپورٹ پیش کرتے ہوئے حکومتوں پر بچوں کے تحفظ کے اقدامات مضبوط بنانے پر زور دیا ہے۔اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تقریبا 4 کروڑ 50 لاکھ بچے تنازعات، قدرتی آفات اور موسمیاتی بحران کے باعث بے گھر ہیں، مصنوعی ذہانت نے بچوں کے جنسی استحصال کے لئے   بڑے پیمانے پر نئے راستے کھول دئیے ہیں۔ ان خطرات میں سائبر بلنگ، ڈیپ فیکس اور بچوں کو مجرمانہ سرگرمیوں میں بھرتی کرنا بھی شامل ہے۔نجت معلا مجید نے خبردار کیا کہ کووڈ 19 کی وبا کے بعد دنیا اب بھی پیچیدہ اور ایک دوسرے سے جڑے ہوئے بحرانوں کا سامنا کر رہی ہے۔یونیسیف، ایکپاٹ انٹرنیشنل اور انٹرپول کی ستمبر 2026 میں شائع ہونے والی تحقیق پاکستان میں نقصان دہ سرگرمیوں کی روک تھام کے مطابق پاکستان میں 12 سے 17 سال کی عمر کے انٹرنیٹ استعمال کرنے والے تقریبا ہر 16 میں سے ایک بچے کو ایک سال کے دوران ٹیکنالوجی کے ذریعے جنسی استحصال یا بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑا۔ تحقیق کے مطابق متاثرہ بچوں کی تعداد تقریبا 15 لاکھ بنتی ہے۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کیے جانے والے جنسی مواد کو بچوں کے لئے  ابھرتا ہوا خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بچوں کے خلاف بدسلوکی کی ان صورتوں میں ناپسندیدہ جنسی تصاویر یا گفتگو، نجی تصاویر بھیجنے کے مطالبات، بچوں کی تصاویر ان کی رضامندی کے بغیر شیئر کرنا اور جنسی نوعیت کی دھمکیاں یا بلیک میلنگ شامل ہیں۔سوشل میڈیا بدسلوکی کے رپورٹ ہونے والے واقعات میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والا ڈیجیٹل پلیٹ فارم تھا، جہاں 44 فیصد واقعات رپورٹ ہوئے۔ خوف، معاشرتی بدنامی اور گھر میں ممکنہ ردعمل کے خدشات اکثر بچوں کو خاموش رہنے پر مجبور کرتے ہیں۔ متاثرہ بچوں کو ڈر ہوتا ہے کہ انہیں ہی قصوروار ٹھہرایا جائے گا، ان کی تضحیک کی جائے گی یا خاندان کی جانب سے ان پر مزید پابندیاں عائد کر دی جائیں گی۔یونیسیف کے مطابق ٹیکنالوجی کے ذریعے جنسی استحصال یا بدسلوکی کا سامنا کرنے والے نصف سے زیادہ بچوں نے اپنے تجربات کے بارے میں کسی کو نہیں بتایا۔ تحقیق میں شامل کسی بھی بچے نے اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعے کی اطلاع ہیلپ لائن، سماجی کارکنوں یا پولیس جیسے باضابطہ ذرائع کو نہیں دی۔آن لائن بدسلوکی بچوں کے تحفظ سے متعلق ایک وسیع تر مسئلے کا حصہ ہے، جس پر غربت، نقل مکانی اور بنیادی سہولیات تک رسائی میں رکاوٹیں بھی اثرانداز ہوتی ہیں۔نجت معلا مجید نے خبردار کیا کہ غربت، غذائی عدم تحفظ اور بڑھتی ہوئی قیمتیں دنیا بھر میں بچوں کی کمزوری اور استحصال کے خطرات میں اضافہ کر رہی ہیں۔ معاشی مشکلات بچوں کو استحصال کے لئے زیادہ غیر محفوظ بنا سکتی ہیں، جبکہ تنازعات اور قدرتی آفات تعلیم کا سلسلہ منقطع کرنے اور خاندانوں کے معاون نظام کو کمزور کرنے کا سبب بنتی ہیں۔پاکستان کے لیے چیلنج یہ ہے کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سے پیدا ہونے والے خطرات کے ساتھ ان سماجی اور معاشی حالات سے بھی نمٹا جائے جو بچوں کو مناسب تحفظ سے محروم کر سکتے ہیں۔پاکستان سے متعلق تحقیق بچوں کے آن لائن استحصال کی روک تھام، واقعات کی تحقیقات اور متاثرین کی مدد کے نظام میں موجود کمزوریوں کی نشاندہی کرتی ہے۔بچوں کو شکایات درج کرانے کے محفوظ اور آسان ذرائع فراہم کرنے کی ضرورت ہے، جبکہ تحقیقات ایسے تربیت یافتہ اہلکاروں کے ذریعے کی جانی چاہئیں جو بچوں کی ضروریات کو سمجھتے ہوں۔ متاثرین کو بھی ایسی معاونت ملنی چاہیے جس کے دوران انہیں مزید تضحیک یا ذہنی صدمے سے نہ گزرنا پڑے۔یونسیف کی تحقیق میں پاکستان کے قانونی نظام میں موجود خامیوں کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق قانون میں یہ لازمی قرار نہیں دیا گیا کہ بچوں کے فرانزک انٹرویوز منظم انداز میں خصوصی تربیت یافتہ ماہرین ہی کریں۔رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ بچوں کے تحفظ کے نظام کو مثر بنانے، شکایات کے لیے محفوظ ذرائع فراہم کرنے، تحقیقات کے معیار کو بہتر بنانے اور متاثرہ بچوں کی بحالی کے لئے  مناسب معاونت یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔