سشمیتا سین نے گود لینے کے دوران قانونی اور سماجی مشکلات پر کھل کر بات کی

سشمیتا سین نے گود لینے کے دوران قانونی اور سماجی مشکلات پر کھل کر بات کی

بالی ووڈ کی مشہور اداکارہ اور سابق مس یونیورس سشمیتا سین نے ایک حالیہ انٹرویو میں اپنی بیٹیوں رینی اور علیشہ کو گود لینے کے دوران پیش آنے والی قانونی اور سماجی مشکلات کا ذکر کیا۔

سشمیتا نے بتایا کہ سن 2000 میں جب انہوں نے پہلی بیٹی رینی کو گود لینے کی کوشش کی، تو قوانین غیر شادی شدہ خواتین کو بچوں کو گود لینے سے نہیں روکتے تھے، مگر سماجی تعصب اور قانونی پیچیدگیاں ان کے لیے رکاوٹ بنی رہیں۔وہ اس وقت صرف 21 برس کی تھیں اور شادی کے بغیر ماں بننے کا خواب رکھتی تھیں۔عدالت کے عمل کے دوران انہیں خوف تھا کہ اگر فیصلہ ان کے خلاف آیا تو وہ بچی سے جدا ہو جائیں گی۔سشمیتا کے والد شوبیر سین نے اس فیصلے میں ان کا بھرپور ساتھ دیا اور قانونی شرط کے مطابق اپنی جائیداد کا نصف حصہ رینی کے نام کر دیا۔

عدالت کے جج نے ان کے والد سے کہا کہ اگر بیٹی کو گود لینے دیا گیا تو کوئی اچھا لڑکا اس سے شادی نہیں کرے گا، جس پر والد نے جواب دیا کہ ’’میں نے بیٹی کو صرف کسی کی بیوی بنانے کے لیے پرورش نہیں کی۔’’عدالت کے فیصلے کے بعد سشمیتا سین 2000 میں بھارت کی پہلی سنگل مدر بننے والی معروف شخصیت بن گئیں، اور بعد میں انہوں نے اپنی دوسری بیٹی علیشہ کو بھی گود لیا۔یہ بیان سشمیتا کے خاندانی تعاون، حوصلے اور سماجی چیلنجز کے باوجود اپنے خواب کو حقیقت میں بدلنے کی کہانی پیش کرتا ہے۔