بورڈ آف ریونیو کی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھنے لگے

4700کیسز میں قانون کی خلاف ورزیانکوائری کی سفارش کر دی گئی
لاہور (خصوصی رپورٹ) بورڈ آف ریونیو کی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھنے لگے ہیں، جہاں غیربینکاری ذرائع سے خریدی گئی جائیدادوں پر جرمانے عائد نہ کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ذرائع کے مطابق ریونیو اسٹاف کی ناقص حکمتِ عملی اور قانون پر عملدرآمد میں کوتاہی کے باعث قومی خزانے کو تقریباً 2 ارب 92 کروڑ 85 لاکھ 90 ہزار روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بورڈ آف ریونیو 4700 کیسز میں ایسی جائیدادوں پر جرمانے عائد نہیں کر سکا جن کی خرید و فروخت بینکاری ذرائع کے بغیر کی گئی تھی، حالانکہ قانون کے مطابق 50 لاکھ روپے سے زائد مالیت کی جائیداد صرف بینکنگ چینل کے ذریعے خریدی جا سکتی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ غیر بینکاری ذرائع سے جائیداد کی خرید و فروخت قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے، اور اس پر جرمانہ عائد نہ کرنا نہ صرف مالی نقصان کا باعث بنا بلکہ بعض نجی افراد کو ناجائز فائدہ بھی پہنچایا گیا۔یہ تمام کیسز ریونیو عملے کی مبینہ غفلت یا ملی بھگت کی نشاندہی کرتے ہیں۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ان خلاف ورزیوں پر بروقت ایکشن لیا جاتا تو یہ خطیر رقم قومی خزانے میں شامل ہو سکتی تھی۔ذرائع کے مطابق متعلقہ محکموں کو رپورٹ موصول ہو چکی ہے اور آئندہ چند روز میں ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی متوقع ہے۔ اعلیٰ حکام نے اس معاملے کی مکمل انکوائری اور مستقبل میں سخت مانیٹرنگ کی سفارش کی ہے تاکہ ایسی غفلت دوبارہ نہ ہو۔