مسئلہ یہ ہے حق میں فیصلہ دیں تو خوش، خلاف دیں تو ناراض ہوجاتے ہیں:آئینی بینچ

ٹیکس نافذ کرتے ہوئے آپ کس طرح کے انصاف کی توقع رکھتے ہیں:جسٹس محمد علی مظہر‘ آرٹیکل 10 اے قدرتی انصاف کے برابر ہے:وکیل فروغ نسیم
اسلام آباد (آن لائن)سپریم کورٹ کے آئینی بینچ میں سپر ٹیکس سے متعلق دائر درخواستوں پر سماعت کے دوران جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیے ہیں کہ مسئلہ یہ ہے کہ ہم کسی کے حق میں فیصلہ دیں تو خوش ہوتے ہیں خلاف دیں تو ناخوش ہو جاتے ہیں۔انھوں نے یہ ریمارکس منگل کے روز دیے ہیں سپریم کورٹ کے آئینی بینچ میں سپر ٹیکس سے متعلق دائر درخواستوں پر سماعت ہوئی، جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں پانچ رکنی آئینی بینچ نے کیس کی سماعت کی جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ کتنا ٹیکس نافذ ہو گا اسکا فیصلہ گزشتہ سال کے اثاثوں پر ہوتا ہے؟، وکیل فروغ نسیم نے جواب دیا کہ انکم ٹیکس میں یہ تصور ہے کہ جیسے جیسے آمدن میں اضافہ ہو گا ویسے ویسے ٹیکس بڑھے گا۔جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ یہ کہاں لکھا ہے کہ تشخیصی ٹیکس کب نافذ ہو گا کب نہیں، فروغ نسیم  نے کہا کہ آرڈیننس میں لکھا ہے کہ تشخیص ایک سال بعد ہوگی، آپ معزز جج صاحبان آئین کے محافظ ہیں، میں خود بھی پارلیمنٹ کا حصہ رہا ہوں اور وہاں بھی میں یہی کہتا رہا ہوں، پارلیمنٹ سپریم ہے لیکن سپریم کورٹ انصاف فراہم کرنے والا ادارہ ہے۔جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ مسلئہ یہ ہے کہ ہم کسی کے حق میں فیصلہ دیں تو خوش ہوتے ہیں خلاف دیں تو ناخوش ہو جاتے ہیں، فروغ نسیم نے کہا کہ بشر ہیں فیصلہ حق میں آئے تو ہم خوش ہوجاتے ہیں، خلاف آئے تو برا کہتے ہیں۔جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ٹیکس نافذ کرتے ہوئے آپ کس طرح کے انصاف کی توقع رکھتے ہیں، فروغ نسیم نے مؤقف اپنایا کہ آرٹیکل 10 اے قدرتی انصاف کے برابر ہے، قدرتی انصاف سے مراد صرف یہ نہیں کہ سننے کا حق دیا جائے۔سپریم کورٹ نے کیس کی مزید کی سماعت آج تک ملتوی کردی