لاپتہ افراد واپس آنے پر کہتے ہیں شمالی علاقہ جات گئے تھے: جسٹس جمال مندوخیل اٹارنی جنرل، وزارت داخلہ و دیگر کو نوٹس جاری
پاکستانیوں کے خفیہ غیر ملکی بینک اکائونٹس سے 880 ملین روپے کی ریکوری کا کیس نمٹا دیا‘ صدارتی امیدوار اصغر علی کی درخواست خارج
اسلام آباد(آئی این پی )سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے لاپتہ افراد کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دئیے ہیں پارلیمنٹ کا عام یا مشترکہ اجلاس بلا کر مسئلے کو حل کریں۔آئینی بینچ نے لاپتہ افراد کیس میں اٹارنی جنرل، وزارت داخلہ و دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے تمام متعلقہ اداروں سے رپورٹس طلب کر لیں۔دوران سماعت، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ میری نظر میں لاپتہ افراد کا کیس انتہائی اہم ہے، لاپتہ افراد کے کیسز ہائیکورٹس اور سپریم کورٹ میں چل رہے ہیں، لوگوں کی زندگیاں ہیں ہزاروں لوگ لاپتہ ہے۔ یہاں اعتزاز احسن لطیف کھوسہ جیسے سیاستدان کھڑے ہیں، اس مسئلہ کا حل پارلیمنٹ نے نکالنا ہے۔ڈپٹی اٹارنی جنرل جاوید اقبال نے دلائل میں کہ کابینہ میں لاپتہ افراد کا معاملہ گزشتہ روز ڈسکس ہوا ہے، کابینہ نے سب ذیلی کمیٹی بنا دی ہے جو اپنی سفارشات کابینہ کو پیش کرے گی۔ حکومت لاپتہ افراد کا معاملہ حتمی طور پر حل کرنا چاہتی ہے۔جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ لاپتا افراد کا معاملہ بیان بازی سے حل نہیں ہوگا۔ جسٹس محمد علی مظہر نے سوال کیا کہ لاپتہ افراد کمیشن نے اب تک کتنی ریکوریاں کی ہیں۔جسٹس حسن اظہر رضوری نے کہا کہ کیا کوئی لا پتہ افراد کمیشن کے پاس ڈیٹا ہے کس نے افراد کو لاپتہ کیا، جو لاپتہ لوگ واپس آئے کیا انہوں نے بتایا کون اٹھا کر لے کر گیا۔جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ لاپتہ افراد واپس آنے پر کچھ نہیں بتاتے، لاپتہ افراد واپس آنے پر کہتے ہیں شمالی علاقہ جات میں آرام کے لیے گئے تھے۔ایڈووکیٹ لطیف کھوسہ نے کہا کہ ملک ڈیپ اسٹیٹ بن گیا ہے جس پر جسٹس جمال مندوخیل نے ایڈووکیٹ لطیف کھوسہ کو بات کرنے سے روک دیا۔جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کھوسہ صاحب عدالت میں سیاسی بات نہ کریں، پارلیمنٹ کا عام یا مشترکہ اجلاس بلا کر مسئلے کو حل کریں۔ آئینی بینچ نے پاکستانیوں کے خفیہ بینک غیر ملکی بینک اکائونٹس سے متعلق از خود نوٹس نمٹا دیا۔جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا فارن اکائونٹس کی نشاندہی ہو گئی تھی؟ ۔ایف بی آر وکیل نے اثبات میں جواب دیا جس پر جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ نشاندہی کے بعد ریکوری حکومتی محکموں نے کرنی ہے‘عدالت نے پیش رفت سامنے آنے پر مقدمہ نمٹا دیا۔ جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دئیے حکومت لکھ کر دے کہ گلگت بلتستان کے حوالے سے کیا پریکٹیکل مسائل ہیں۔سپریم کورٹ میں گلگت بلتستان کی آئینی و قانونی حیثیت سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے اعتراض کیا کہ عدالتی فیصلہ قانون اور اختیار کے خلاف ہے، سپریم کورٹ کے آرڈر پر گلگت بلتستان کے عوام میں اضطراب پایا جاتا ہے، گلگت بلتستان کے عوام کا مطالبہ ہے انھیں پارلیمنٹ میں نمائندگی دی جائے۔وکیل حامد خان نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام برابری کے حقوق چاہتے ہیں۔ جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دئیے کہ قانون کے مطابق حکومت جو چاہے قانون سازی کر لے، عدالتی فیصلہ پر عمل ہوا نہیں اور آپ توسیع پر توسیع لے رہے ہیں‘ آئینی بنچ نے صدارتی امیدوار اصغر علی مبارک کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کیخلاف درخواست کو 20 ہزار جرمانے کے ساتھ خارج کر دیا۔