ماں بننے کے بعد ماں کی اہمیت اور قدر میں اضافہ: دپیکا پڈوکون

ماں بننے کے بعد ماں کی اہمیت اور قدر میں اضافہ: دپیکا پڈوکون

بالی ووڈ کی  اداکارہ دپیکا پڈوکون نے حالیہ انٹرویو میں ورک لائف بیلنس کے اہم موضوع پر روشنی ڈالی ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ ماں بننے کے بعد زندگی میں بہت تبدیلی آتی ہے۔

 انہوں نے بتایا کہ اب وہ سمجھتی ہیں کہ صحت مند اور متوازن زندگی گزارنے کے لیے روزانہ آٹھ گھنٹے کام کرنا کافی ہے، اور اوور ورکنگ کو ایک کمٹمنٹ کے طور پر نہیں لینا چاہیے کیونکہ یہ برن آؤٹ کا سبب بن سکتا ہے جو کسی کے لیے بھی فائدہ مند نہیں ہے۔انٹرویو میں دپیکا سے پوچھا گیا کہ کیا ماں بننے کے بعد ان کی زندگی میں کوئی تبدیلی آئی ہے، جس پر انہوں نے کہا کہ سو فیصد، کیونکہ جب وہ کہتی ہیں کہ ‘ماں بننے کے بعد سمجھ آتی ہے’ تو یہ بات بالکل صحیح ثابت ہوتی ہے۔ انہوں نے اپنی ذاتی تجربات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اب وہ اپنی ماں کی قدر اور محبت کو بہتر طریقے سے سمجھتی ہیں، اور اس حوالے سے مزید آگاہی حاصل ہوئی ہے۔

دپیکا نے یہ بھی بتایا کہ وہ اپنی کمپنی میں ہفتہ وار آٹھ گھنٹے کام کرتی ہیں اور وہاں میٹرنٹی اور پیٹرنٹی پالیسیز بھی موجود ہیں، جو کام اور خاندان کے مابین توازن برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کام کی جگہوں پر بچوں کو لانے کی روایت کو بھی عام اور قابل قبول بنانا چاہیے تاکہ والدین، خاص طور پر مائیں، زیادہ آرام دہ اور سپورٹڈ محسوس کریں۔

یاد رہے کہ دپیکا پڈوکون نے 2024 میں بیٹی دعا کو جنم دیا تھا، جس کے بعد سے ان کے ورک لائف بیلنس، کام کے اوقات اور والدین کے حقوق کے حوالے سے خبریں اور بحثیں بھی جاری رہیں ہیں۔ انہوں نے اپنے تجربات سے یہ ثابت کیا ہے کہ صحت مند اور خوشگوار زندگی کے لیے ملازمت اور خاندان کے مابین توازن ضروری ہے، اور اس پر عمل پیرا ہونے سے زندگی کے معیار میں بہتری آتی ہے۔