امریکی میڈیا نے ہندو انتہا پسندی کی عالمی سرگرمیاں بے نقاب کر دیں

امریکی میڈیا نے ہندو انتہا پسندی کی عالمی سرگرمیاں بے نقاب کر دیں

عالمی سطح پر ہندو انتہا پسندی کا بیانیہ تیز، بھارت کا سیکولر چہرہ بے نقاب ہوتا جا رہا ہے.

سفاک بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی سرپرستی میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) دنیا بھر میں انتہا پسند ہندو نظریے کے فروغ کے لیے سرگرم ہے۔ یہ تنظیم اقلیتوں کے حقوق کی پامالی، تشدد اور مذہبی تعصب کو بڑھاوا دینے میں مصروف عمل ہے۔امریکی جریدہ پریزم کی تحقیقات کے مطابق، آر ایس ایس نے امریکی قانون کے تحت لابنگ کے بغیر، اپنے اثرورسوخ کے لیے امریکی کانگریس پر دباؤ ڈالنے کے لیے بیرون ملک سرگرمیاں شروع کر رکھی ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آر ایس ایس نے بیرون ملک، خاص طور پر امریکہ میں، لابنگ کے لیے خطیر رقم خرچ کی ہے اور یہ تنظیم امریکی فارن ایجنٹس رجسٹریشن ایکٹ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے خود کو غیر ملکی ادارے کے طور پر رجسٹر کیے بغیر سرگرمیاں انجام دے رہی ہے۔

ایک معروف امریکی صحافی، ڈاکٹر آڈری ٹرشکے کے مطابق، آر ایس ایس کی یہ سرگرمیاں امریکہ کے لیے انتہائی تشویشناک اور غیر قانونی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آر ایس ایس کی امریکہ میں سرگرمیاں عالمی سطح پر فاشسٹ تشخص کو بدلنے اور ہندو توا ایجنڈے کو فروغ دینے کی کوششیں ہیں۔ بھارت میں انتہا پسند مودی سرکار کے زیر اثر، مذہبی آزادی اور اقلیتوں کے حقوق خطرے میں پڑ چکے ہیں، جو عالمی سطح پر ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔