کمانڈرسعید الرحمن نے حملے کا کہا،عثمان عرف قاری کو خودکش جیکٹ میں نے پہنائی:ہینڈلرساجداللہ شینا
افغانستان سیٹی ٹی پی قیادت نے نیٹ ورک کی رہنمائی کی،گرفتارآپریشنل کمانڈر اور 3 دہشتگرد سے تحقیقات جاری
اسلام آباد(خصوصی رپورٹ)اسلام آباد جوڈیشل کمپلیکس خودکش حملے میں ملوث ٹی ٹی پی کے دہشتگرد سیل کے 4 ارکان کو گرفتار کر لیا گیا،انٹیلی جنس بیورو ڈویڑن اور سی ٹی ڈی نے مشترکہ کارروائی کرکے جوڈیشل کمپلیکس جی۔11 اسلام آباد پر حملے میں ملوث ٹی ٹی پی /فتنہ الخوارج کے دہشت گرد سیل کے 4 ارکان گرفتار کر لئے،دوران تفتیش خودکش بمبارکے ہینڈلر ساجد اللہ عرف شینا نے اعتراف کیا کہ ٹی ٹی پی/فتنہ الخوارج کمانڈر سعید الرحمن عرف داداللہ (ساکن چرمانگ، باجوڑ، حال مقیم افغانستان اور باجوڑ کے نواگئی کیلئے ٹی ٹی پی کا انٹیلی جنس چیف)نے اسے ٹیلی گرام ایپلیکیشن کے ذریعے رابطہ کر کے اسلام آباد میں خودکش حملہ کرانے کا کہا تاکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچایا جاسکے۔داد اللہ نے ساجد اللئو عرف ’’شینا‘‘ کو خودکش بمبار عثمان عرف ’’قاری‘‘کی تصاویر بھیجیں تاکہ وہ اسے پاکستان میں وصول کرے، خودکش بمبار عثمان عرف ’’قاری‘‘ کا تعلق شنواری قبیلے سے تھا اور وہ اچین، ننگرہار افغانستان کا رہائشی تھا، خودکش بمبار افغانستان سے پاکستان پہنچا تو ساجد اللئو عرف ’’شینا‘‘نے اسے اسلام آباد کے نواحی علاقے میں ٹھہرایا۔افغانستان میں موجود ٹی ٹی پی /فتنہ الخوارج کے کمانڈر داد اللئو کی ہدایت پر ساجد اللئو عرف ’’شینا‘‘ نے اکھن بابا قبرستان پشاور سے خودکش جیکٹ حاصل کی اور اسے اسلام آباد پہنچایا اور دھماکے کے روز ساجد اللئو نے خودکش بمبار عثمان عرف ’’قاری‘‘ کو خودکش جیکٹ پہنائی۔تفتیش کے مطابق فتنہ الخوارج /ٹی ٹی پی کی افغانستان میں موجود اعلیٰ قیادت ہر قدم پر اس نیٹ ورک کی رہنمائی کر رہی تھی، اس واقعے میں ملوث پورا سیل پکڑا جا چکا ہے، آپریشنل کمانڈر اپنے 3 دہشت گرد ساتھیوں سمیت گرفتار ہو چکے ہیں،اس حوالے سے مزید تحقیقات جاری ہیں اور مزید انکشافات و گرفتاریاں متوقع ہیں۔