عدالتی تقرریاں اور آئینی فیصلے پارلیمنٹ کے دائرہ اختیار میں ہونے چاہئیں ملک محمد احمد خان

چیف جسٹس بننے کیلئے عدالتوں میں تقسیم ایک حقیقت رہی ہے ‘ اب یہ دروازے بند ہونے چاہئیں‘پارلیمان کا شکریہ جنہوں نے آئینی عدالت بنائی
 ملک میں سیاسی استحکام ناگزیر ہے ‘دنیا پاک فوج  کی صلاحیتوں کا اعتراف کرتی ہے:سپیکر پنجاب اسمبلی کا نجی کالج کی تقریب سے خطاب
لاہور (آن لائن)سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے کہا ہے  یہ آئین کی کوئی تشریح نہیں کے جج کو جج ہی تعینات کرے گا یہ اختیار پارلیمان کے پاس ہی ہونا چاہیے،چیف جسٹس بننے کے لیے عدالتوں میں تقسیم ایک حقیقت رہی ہے اور اب یہ دروازے بند ہونے چاہئیں،، ڈونلڈ ٹرمپ آج بھی یاد کرواتا ہے کہ ہم نے بھارت کے کتنے طیارے گرائے،، قوم کی بیٹیاں ملک کا مستقبل سنوار سکتی ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور کے مقامی ہوٹل میں نجی کالج کی سالانہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے  کہا  یہاں موجود ہر بچی میرے لیے بیٹیوں جیسی ہے، تعلیمی ادارے جہالت کے خلاف جہاد کر رہے ہیں، اس نرسری میں پودے لگا رہے ہیں جو ملک کو چلائیں گے،سپیکر نے بتایا کہ ان کی اپنی بہنیں پرائمری سے آگے تعلیم حاصل نہ کر سکیں، اس لیے وہ چاہتے ہیں کہ ہر بیٹی اعلیٰ تعلیم تک رسائی پائے، ان کا کہنا تھا  نجی سکولوں میں ایک بچے پر ہفتہ وار 60 ہزار خرچ ہوتا ہے، لیکن سرکاری سکولوں میں سالانہ خرچہ صرف 87 ڈالر کیوںیہ ڈسپیریٹی ختم کرنا ہو گی۔انہوں نے مزید کہا  ملک میں سیاسی استحکام ناگزیر ہے اور عدالتی تقرری کے طریقہ کار پر پارلیمان کا اختیار ہی ہونا چاہیے، بولے یہ تشریح درست نہیں کہ جج ہی جج کو تعینات کرے، تعیناتی کا اختیار پارلیمان کے پاس ہونا چاہیے۔ سپیکر ملک محمد احمد خاں نے کہا کہ جو ترامیم پارلیمنٹ نے کرنے کی کوشش کی، انہیں عدالتوں نے روک دیا، عدالتوں نے منتخب حکومتوں کو بار بار ہٹایا، مزید کہا کہ چیف جسٹس بننے کے لیے عدالتوں میں تقسیم ایک حقیقت رہی ہے اور اب یہ دروازے بند ہونے چاہئیں،، خطے کی صورتحال پر انہوں نے پاکستان کی افواج کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ دنیا ابھی تک ان کی صلاحیتوں کا اعتراف کرتی ہے