جون 2025 تک پاکستان کا سرکاری قرضہ 80.5 ٹریلین روپے تک پہنچ گیا‘ موجودہ قرض ایف آر ڈی ایل اے کی مقررہ حدود سے تجاوز کر چکا ہے:وزیرخزانہ

سینیٹ اجلاس آرمی ایکٹ ترمیمی بل منظور  ائیرفورس، نیوی ترمیمی ایکٹ اور پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی بل کی بھی منظور ی
جے یو آئی  ف کے  کامران مرتضی اور  پی ٹی آئی کے  ہمایوں مہمند  کی بل کی مخالفت،  کمیٹی کو بھجوانے کا مطالبہ  ‘ ایوان نے27 ویں آئینی ترمیم منظورکی اور اسی سبب ایکٹس میں ترمیم کی ضرورت تھی:اسحاق ڈار
قومی اسمبلی اجلاس  میںوقفہ سوالات کے دوران اپوزیشن کی نعرے بازی،  سرمایہ کار پاکستان چھوڑ کر کیوں جا رہے ہیں:شہلا رضا ،زیراعظم کا تاجروں سے مشاورتی عمل جاری ہے :بلال اظہر کیانی
اسلام آباد(آئی این پی‘آن لائن )سینیٹ  نے پاکستان آرمی ایکٹ ترمیمی بل 2025 کثرت رائے سے منظور کر لیا  پاکستان ایئرفورس ایکٹ ترمیمی بل اور پاکستان نیوی آرڈیننس ترمیمی بل کی بھی منظوری دے دی گئی۔چیئرمین یوسف رضا گیلانی کی زیرصدارت  جمعہ کوسینیٹ کا اجلاس ہوا، نائب وزیراعظم اور سینیٹر اسحاق ڈار نے آرمی ایکٹ ترمیمی بل منظوری کیلئے سینیٹ میں پیش کیا، جسے ایوان نے کثرت رائے سے منظور کر لیا۔اسحاق ڈار نے کہا کہ ایوان نے 27 ویں آئینی ترمیم منظور کی، اسی سبب ایکٹس میں ترمیم کی ضرورت تھی، آرمی، نیوی اور ایئر فورس ایکٹ میں ترمیم کی گئی ہے۔جے یو آئی  ف کے رکن کامران مرتضی نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس بل کو کمیٹی میں بھجوایا جائے، پی ٹی آئی کے رکن ہمایوں مہمند نے بھی بل کمیٹی کے بھجوانے کا مطالبہ کیا۔تاہم چیئرمین سینیٹ نے بلوں کی منظوری کیلئے   ایوان سے رائے لی جس کے بعد ایوان نے بلوں کو کثرت رائے سے منظور کرلیا۔پاکستان ایئر فورس ایکٹ ترمیمی بل 2025 کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا، ایئر فورس ایکٹ ترمیمی بل 2025 میں اہم تبدیلیاں کی گئیں۔پاکستان ایئر فورس ایکٹ 1953 میں سے سیکشن 10 ڈی، 10 ای اور 10 ایف حذف کرنے کی ترمیم منظور کر لی گئی، سیکشن 202 میں ترمیم چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی کے الفاظ حذف کرنے کی ترمیم بھی منظور کی گئی۔پاکستان نیوی ایکٹ ترمیمی بل 2025 وزیر دفاع خواجہ آصف نے پیش کیا، جسے ایوان نے کثرت رائے سے منظور کیا ہے۔اس علاوہ سینیٹ نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی بل بھی منظور کر لیا، یہ بل وفاقی وزیر طارق فضل چودھری نے پیش کیا۔پی ٹی آئی اور جے یو آئی کے ارکان کی جانب سے بل کی مخالفت کی گئی۔دریں اثناء قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی اسپیکر سید غلام مصطفیٰ شاہ کی صدارت میں منعقد ہوا وقفہ  سوالات کے دوران اپوزیشن کی نعرے بازی، ڈپٹی اسپیکر نے اپوزیشن کو نکتہ اعتراض کی اجازت دینے سے انکار کیا جس پر ایوان میں شور مزید بڑھ گیا۔اجلاس میں رکن قومی اسمبلی شہلا رضا نے سوال اٹھایا کہ سرمایہ کار پاکستان چھوڑ کر کیوں جا رہے ہیں؟اس پر وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی نے جواب دیتے ہوئے کہاوزیراعظم کا تاجروں سے مشاورتی  عمل جاری ہے۔اگر کچھ سرمایہ کار جا رہے ہیں تو کچھ واپس بھی آ رہے ہیں۔وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ملک کے سرکاری قرض سے متعلق تفصیلی رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ جون 2025 تک پاکستان کا سرکاری قرضہ 80.5 ٹریلین روپے تک پہنچ گیا۔مالی سال 2025 میں قرضے میں 9.3 ٹریلین روپے اضافہ ہوا — یومیہ 25.4 ارب روپے کے برابر ہے ایف آر ڈی ایل اے کے تحت قرض میں 8.2 ٹریلین روپے کا اضافہ ریکارڈ ہوا — یعنی یومیہ  22.3 ارب روپے۔مجموعی سرکاری قرض جی ڈی پی کا 70.8 فیصد ہوگیا، جو گزشتہ سال 67.8 فیصد تھا۔وزیر خزانہ نے اعتراف کیا کہ موجودہ قرض ایف آر ڈی ایل اے کی مقررہ حدود سے تجاوز کر چکا ہے۔ان کے مطابق یہ صورتحال ماضی کی مالیاتی پالیسیوں اور بیرونی دباؤ کا نتیجہ ہے