خواب، عذاب اور سیلاب

سلمان احمد قریشی

 پاکستانی عوام خواب دیکھتے ہیں، حکمران وعدے کرتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ مسائل کم ہونے کے بجائے روز بروز بڑھتے جارہے ہیں۔ قیامِ پاکستان کو سات دہائیاں گزر گئیں مگر عوام آج بھی بنیادی سہولیات کو ترس رہے ہیں۔ خواب دکھانے والے سب ہیں، لیکن ان خوابوں کی تعبیر کہیں نظر نہیں آتی۔ہمارے پاس سب کچھ ہے مقبول ترین جماعتیں، پرجوش لیڈر،جمہوریت کے علمبردار، مفاہمت کے بادشاہ، اسلامی نظام کے داعی اور قوم پرست رہنما لیکن عام آدمی کی زندگی سکون سے خالی ہے۔ کسان ہو یا مزدور، تاجر ہو یا ملازم، سب ہی مہنگائی، بے روزگاری، بدعنوانی اور نااہل منصوبہ بندی کے بوجھ تلے دبے ہیں۔
پاکستان زرعی ملک ہے مگر سب سے زیادہ محروم کسان ہے۔ ایک طرف بھارت کی آبی جارحیت ہے جو کبھی پانی روک کر ہمارے دریا خشک کرتا ہے اور کبھی اچانک چھوڑ کر سیلابی ریلے ہماری بستیاں اجاڑ دیتا ہے۔ دوسری طرف اپنی حکومتوں کی کوتاہیاں ہیں جو آج تک بڑے ڈیم اور آبی ذخائر بنانے میں ناکام رہیں۔اعداد و شمار گواہ ہیں کہ پاکستان ہر سال 30 سے 35 ملین ایکڑ فٹ پانی سمندر میں ضائع کر دیتا ہے۔ اگر یہ محفوظ کیا جائے تو بجلی، زراعت اور خوراک کے بحران پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ لیکن انگریز کے دور کے نہری نظام اور ایوب خان کے چند منصوبوں کے بعد ہم نے آبی وسائل پر کوئی سنجیدہ سرمایہ کاری نہیں کی۔ایوب خان نے اقتدار پر قبضہ مستحکم رکھنے کے لیے آبی منصوبے ضرور شروع کیے لیکن یہ منصوبے بھی عالمی طاقتوں کے دباؤ اور معاہدوں کی قیمت پر تھے۔ ملک کے دریا بیچ دیے گئے اور اس کے بدلے میں چند ڈیم ضرور بنے مگر بھارت کو دریاؤں پر کنٹرول مل گیا۔ اقتدار کی کرسی بچانے کی اس خواہش نے آخرکار مشرقی پاکستان کے زخموں کو بھی گہرا کیا اور 1971 میں ملک دولخت ہوگیا۔
پاکستان میں سیاست خدمت کے بجائے رسہ کشی کا دوسرا نام ہے۔ ایک دوسرے پر مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنے کے الزامات، دھاندلی کے بیانیے، اقتدار کی جنگ اور کرپشن کے کیسز ہمیشہ خبروں کی زینت رہے۔ آج پاکستان پر 130 ارب ڈالر سے زائد بیرونی قرضہ ہے۔ بجلی کے مہنگے ترین معاہدے کئے گئے جن کی وجہ سے فی یونٹ قیمت خطے میں سب سے زیادہ ہے۔ ’’کیپیسٹی پیمنٹس‘‘ کے نام پر ہر سال اربوں روپے ان کمپنیوں کو ادا کیے جاتے ہیں جو بجلی پیدا ہی نہیں کرتیں۔ اس سب کا ذمہ دار کوئی نہیں۔
ایوب خان کے ڈیموں کے بعد اگر بڑے آبی ذخائر پر توجہ دی جاتی تو آج یہ حال نہ ہوتا۔ لیکن قیادت نے ترجیحات بدل ڈالیں۔ لاہور سے اسلام آباد موٹروے کی تعمیر ایک عیاشی تھی اگر یہی منصوبہ کراچی سے شروع ہو کر پورے ملک تک پھیلتا تو واقعی معیشت کو فائدہ ہوتا کیونکہ کراچی بندرگاہ ہے، تجارت کا مرکز ہے۔ لیکن پینتیس برس گزرنے کے باوجود کراچی موٹروے کے ذریعے ملک کے دیگر حصوں سے نہیں جڑ سکا۔ریلوے جو کبھی بہترین نظام تھا اسے تباہ کر دیا گیا۔ اگر اس پر سرمایہ کاری ہوتی تو آج مال برداری کا سب سے سستا ذریعہ عوام اور معیشت کے لئے ریڑھ کی ہڈی بن سکتا تھا۔
پاکستان کی بدقسمتی یہ بھی ہے کہ نصف سے زیادہ عرصہ مارشل لا کی نذر ہوگیا۔ آمریت کے ادوار میں جمہوریت کو پنپنے نہ دیا گیا، عوام اقتدار میں شریک نہ ہو سکے۔ چند خاندان اور ان کے سرمایہ دار سپورٹر آج بھی سیاست، معیشت، صحافت اور حتیٰ کہ عوامی سوچوں پر قابض ہیں۔ مارشل لا نے اداروں کو کمزور کیا، آئین کو بار بار توڑا گیا، اور جمہوریت کی جڑیں اس قدر کھوکھلی کر دی گئیں کہ آج بھی ہم مینڈیٹ کے تقدس پر بحث کر رہے ہیں۔
اگر لاہور اسلام آباد موٹروے سے قبل آبی ذخائر، زراعت اور ریلوے پر سرمایہ کاری ہوتی تو آج حالات مختلف ہوتے۔ لیکن یہاں اشتہارات، تقاریر اور دعوے ہی ترقی سمجھے گئے۔ حقیقت یہ ہے کہ عوام کو ترقی کے ثمرات کبھی نہیں ملے۔
پاکستانی عوام بار بار خواب دیکھتے ہیں لیکن آنکھ کھلتی ہے تو حقیقت سیلاب، مہنگائی، بے روزگاری اور قرضوں کے بوجھ کی صورت میں سامنے آتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہماری قیادت کبھی ان خوابوں کو حقیقت میں بدل سکے گی یا قوم ہمیشہ خواب، عذاب اور سیلاب کے درمیان پسے گی؟
تم ان کے وعدہ کا ذکر ان سے کیوں کرو غالبؔ
یہ کیا کہ تم کہو اور وہ کہیں کہ یاد نہیں
دعوے اور وعدے دیکھ کر دل سے بے اختیار یہی مصرعے پھوٹ پڑتے ہیں۔ یہ سب کچھ کوئی نیا نہیں، یہ بیانات ہم کئی دہائیوں سے سن رہے ہیں۔ لیکن افسوس کہ عوام کے حصے میں آیا کیاصرف محرومیاں، مایوسیاں اور ٹوٹے ہوئے خواب 77برس بیت چکے ہیں مگر یہ وعدوں اور نعروں کی سیاست جاری ہے۔خواب اور حقیقت کا فرق سمجھنا ہی اصل بصیرت ہے۔فیصلہ عوام کو کرنا ہے کہ وہ پھر وعدوں کے اس سراب میں بہکیں یا حقیقت کی زمین پر کھڑے ہو کر اپنا حق طلب کریں۔