اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما شیر افضل مروت کو سینیٹر افنان اللہ پر مبینہ تشدد کے مقدمے سے بری کر دیا۔
عدالتی فیصلہ
جوڈیشل مجسٹریٹ یاسر محمود چوہدری نے کیس کا تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا:شیر افضل مروت کے خلاف مقدمہ درج ضرور ہوا تھا لیکن تفتیش کے دوران کوئی مجرمانہ مواد ان کے خلاف سامنے نہیں آیا۔مدعی عدالت میں پیش نہیں ہوا جس سے مقدمے میں اس کی عدم دلچسپی ظاہر ہوتی ہے۔فیصلے کے مطابق، اگر اس کیس کا ٹرائل بھی چلایا جائے تو ملزم کو سزا کا امکان نہیں۔ان تمام نکات کو مدنظر رکھتے ہوئے شیر افضل مروت کی بریت کی درخواست منظور کی گئی۔
پس منظر
یہ مقدمہ تھانہ آبپارہ اسلام آباد میں درج کیا گیا تھا، جس میں الزام تھا کہ شیر افضل مروت نے مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر افنان اللہ پر تشدد کیا۔ تاہم، عدالتی کارروائی اور تفتیش کے دوران الزامات ثابت نہ ہو سکے۔یہ فیصلہ پی ٹی آئی کے لیے قانونی محاذ پر ایک اہم پیشرفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب کئی پارٹی رہنما مختلف کیسز کا سامنا کر رہے ہیں۔