روسی خطے مشرقی سائبیریا میں جنگلاتی آگ نے تباہی مچا دی، ہنگامی صورتحال نافذ

روسی خطے مشرقی سائبیریا میں جنگلاتی آگ نے تباہی مچا دی، ہنگامی صورتحال نافذ

ویب ڈیسک: روس کے مشرقی سائبیریا کے جنگلات میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی ہے جس نے دیکھتے ہی دیکھتے 6 لاکھ ہیکٹر سے زائد رقبے کو لپیٹ میں لے لیا۔

 آگ کی شدت میں مسلسل اضافے کے پیشِ نظر مقامی حکام نے علاقے میں ہنگامی صورتحال نافذ کر دی ہے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس وقت 49 مختلف مقامات پر آگ لگی ہوئی ہے، جبکہ روسی وزارت برائے ہنگامی صورتحال کا کہنا ہے کہ رواں سال اب تک 14 لاکھ ہیکٹر زمین جنگلاتی آگ سے متاثر ہو چکی ہے، جو امریکا اور کینیڈا میں اس سال مجموعی طور پر جلنے والے رقبے سے تین گنا زیادہ ہے۔

174 بار آگ، 90 فیصد انسانی غفلت کا نتیجہ
مارچ کے وسط سے اب تک مشرقی سائبیریا کے جنگلات میں 174 مرتبہ آگ بھڑک چکی ہے، اور حکام کے مطابق ان میں سے 90 فیصد واقعات انسانی غفلت کا نتیجہ ہیں۔ ان میں لاپرواہی سے جلائی گئی آگ، کھلی جگہوں پر سگریٹ پھینکنے یا قریبی علاقوں میں غیر ذمہ دارانہ سرگرمیوں کا عمل دخل ہے۔

موسمیاتی تبدیلی کے اثرات شدید
ماحولیاتی ماہرین اور حکام نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کے تحت اس سال جنگلاتی آگ معمول سے کہیں پہلے، مارچ کے مہینے میں ہی شروع ہو گئی، حالانکہ ماضی میں ان علاقوں میں آگ مئی کے مہینے میں بھڑکنا شروع ہوتی تھی۔خشک سالی اور غیرمعمولی حد تک گرم موسم نے صورتحال کو اس قدر خطرناک بنا دیا ہے کہ معمولی سی چنگاری بھی وسیع پیمانے پر تباہی کا باعث بن رہی ہے۔ آگ پر قابو پانے کے لیے فائر فائٹرز، فوجی اہلکار اور خصوصی فضائی یونٹس کارروائیاں کر رہے ہیں، تاہم خراب موسم اور وسیع رقبہ امدادی کاموں میں بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔

عالمی ماحولیاتی تنظیموں کی تشویش
بین الاقوامی ماحولیاتی تنظیموں نے روس میں جنگلاتی آگ کے اس سنگین بحران پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے موسمیاتی تبدیلی کا انتباہی الارم قرار دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے سالوں میں صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔