آئینی بینچ نے سپر ٹیکس کے نفاذ کے خلاف انٹرا کورٹ اپیلوں پر سماعت عید کے بعد تک ملتوی کردی
اسلام آباد(آن لائن )سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے سپر ٹیکس کے نفاذ کے خلاف انٹرا کورٹ اپیلوں پر سماعت عید کے بعد تک ملتوی کر دی۔ جسٹس محمدعلی مظہرنے کہاکہ 1973 کے آئین کے مطابق پارلیمنٹ کو ترمیم کا اختیار ہے انھوں نے یہ ریمارکس جمعہ کے روزدیے ہیں۔جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں پانچ رکنی آئینی بینچ نے سماعت کی۔ دوران سماعت ایڈووکیٹ مخدوم علی خان نے سابق وزیر قانون خالد انور کے انتقال پر اظہار تعزیت کیا۔وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ ایک بڑے قانون دان خالد انور کا انتقال ہوا ہے، خالد انور کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔مخدوم علی خان نے کہاکہ یہ ٹیکس نہیں بلکہ فیس ہے، سوشل ویلفیئر کے ٹیکس عائد کرنا صوبائی معاملہ ہے۔1973 کے آئین میں پارلیمنٹ کو پاور دی گئی تھی، جسٹس محمدعلی مظہرنے کہاکہ 1973 کے آئین کے مطابق پارلیمنٹ کو ترمیم کا اختیار ہے، جسٹس جمال مندوخیل نے کہاکہ سرٹیفکیٹ ایشو کرنا اسپیکر کا کام ہے، مخدوم علی خان نے کہاکہ پارلیمینٹ کے پاس اختیار ہے کہ منی بیل ڈیکلئیر کرتی ہے یا نہیں، عدالت کے پاس قانون کو سٹرائیک ڈاؤن کرنے کی طاقت موجود ہے، جسٹس محمدعلی مظہرنے کہاکہ یہ منی بیل ہے یا نہیں پر پارلیمنٹ میں کوئی بحث ہوئی ہے؟، مخدوم علی خان نے کہاکہ پارلیمنٹ میں اسپیکر کا فیصلہ حتمی ہوتا ہے، جسٹس محمدعلی مظہرنے کہاکہ اسپیکر فیصلہ کیسے کریں گے کیا کوئی بحث ہو گی؟ مخدوم علی خان نے کہاکہ آئین کے مطابق یہ فیصلہ اسپیکر نے کرنا ہے،اگر پارلیمینٹیریز کہیں کہ اس پر بحث ہونی چاہیے تو اسپیکر کروا سکتے ہیں، جسٹس محمدعلی مظہرنے کہاکہ عدالت فیصلہ کر سکتی ہے کہ یہ منی بیل میں آتی ہے یا نہیں؟مخدوم علی خان نے کہاکہ آئینی حیثیت طے کرنا عدالت کا کام ہے