اسلام آباد(آ ن لائن)پریم کورٹ، اسلام آباد ہائی کورٹ میں ججز سنیارٹی و تبادلہ کیس کی سماعت آج تک کے لیے ملتوی کردی گئی،وکیل منیر اے ملک نے اپنے دلائل مکمل کرنے کی یقین دہانی کرادی۔جبکہ جسٹس محمد علی مظہرنے کہاکہ ججز ٹرانسفر کا اختیار آئین کے مطابق صدر کا ہے،آئین کے مطابق ٹرانسفر کیلئے مشاورت لازمی ہے جو ہوئی،چیف جسٹس پاکستان سمیت ہائیکورٹ چیف جسٹسز نے بھی رضا مندی دی۔انھوں نے یہ ریمارکس بدھ کے روزدیے ہیں۔چیف جسٹس کو ساری باتوں کا علم ہونے کے باوجود رضامندی دی گئی جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بنچ نے سماعت کی اس دوران اسلام آباد ہائی کورٹ کے پانچ ججز کے وکیل منیر اے ملک نے دلائل جاری رکھے اور کہاکہ ججز ٹرانسفر کرنے کی حکومت نے جو وجہ بتائی وہ مضحکہ خیز ہے،اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایکٹ کے مطابق ججز مختلف صوبوں سے تعینات ہوسکتے ہیں، قانون میں تبادلوں کا نہیں بلکہ صوبوں سے تعیناتی کا ذکر ہے،جوڈیشل کمیشن نے پانچ میں سے دو آسامیوں پر تعیناتی کی، حکومت کہتی ہے جوڈیشل کمیشن نے ججز نہیں لگائے تو ہم نے لگا دیے، ججز تبادلے کی اصل وجہ اسلام آبا ہائیکورٹ کے چھ ججز کا خط ہے