سینیٹ میں بجٹ پر اپوزیشن کی کڑی تنقید، حکومت پر مہنگائی اور قرضوں کا بوجھ بڑھانے کے الزامات

سینیٹ میں بجٹ پر اپوزیشن کی کڑی تنقید، حکومت پر مہنگائی اور قرضوں کا بوجھ بڑھانے کے الزامات

اسلام آباد: سینیٹ کے اجلاس میں آئندہ مالی سال کے بجٹ پر بحث کے دوران اپوزیشن اور حکومتی ارکان نے اپنی اپنی آراء کا اظہار کیا، جبکہ متعدد سینیٹرز نے بجٹ کو عوامی توقعات کے برعکس قرار دیتے ہوئے شدید تنقید کی۔

چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ حکومت نے "غریب مٹاؤ بجٹ" پیش کیا ہے جو عوام کو ریلیف دینے کے بجائے مزید مشکلات سے دوچار کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں غربت اور قرضوں کا بوجھ مسلسل بڑھ رہا ہے اور بجٹ عوامی مسائل کے حل میں ناکام دکھائی دیتا ہے۔پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان نے خواتین کی صحت سے متعلق مصنوعات پر 18 فیصد ٹیکس ختم کرنے کو مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت کو اپنے اخراجات کم کرنے چاہئیں۔ انہوں نے ماحولیاتی تبدیلیوں کے خطرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کلائمٹ چینج اور غذائی تحفظ کے مسائل پر مزید توجہ دینے کی ضرورت ہے۔پی ٹی آئی کے سینیٹر محسن عزیز نے بجٹ اور ملکی معاشی صورتحال پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو مہنگائی سے نجات نہیں مل رہی اور بنیادی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

سینیٹر شہادت اعوان نے کہا کہ صحت، تعلیم اور زراعت جیسے اہم شعبوں کے لیے مختص فنڈز ناکافی ہیں، جبکہ تنخواہ دار طبقہ اس بجٹ سے سب سے زیادہ متاثر ہوگا۔ انہوں نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں زیادہ اضافے کا مطالبہ بھی کیا۔بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سینیٹر جان محمد بلیدی نے وفاق اور صوبوں کے مالی تعلقات، قرضوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ اور بلوچستان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صوبوں کو مزید مالی اختیارات دیے جانے چاہئیں۔بجٹ پر بحث کے دوران ارکان نے معاشی چیلنجز، مہنگائی، غربت، ماحولیاتی تبدیلی، صوبائی حقوق اور عوامی فلاح کے مختلف پہلوؤں پر اپنے تحفظات اور تجاویز پیش کیں۔ سینیٹ میں بجٹ پر بحث آئندہ اجلاسوں میں بھی جاری رہے گی۔