کراچی میں 4 دن سے سپلائی معطل، قیمت 200روپے تک پہنچ گئی:گروسرز
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)حکومت اور شوگرملز مالکان کے درمیان معاملات طے پا گئے، عوام کو ریلیف دینے کیلئے چینی کی ایکس مل قیمت 165 روپے فی کلو گرام مقرر کردی گئی۔ وزارت غذائی تحفظ نے اس حوالے سے جاری بیان میں کہا شوگر ملوں کے ساتھ بات چیت کے نتیجے میں اب چینی کی ایکس مل قیمت 165 روپے فی کلو گرام مقرر کردی گئی ہے، تمام صوبائی حکومتیں اس فیصلے کی روشنی میں عوام کو سستی چینی کی دستیابی یقینی بنائیں گی۔خیال رہے سندھ اور پنجاب کی شوگر ملوں نے کراچی کے بازاروں میں جمعہ سے چینی کی ترسیل روکی ہوئی ہے،چیئرمین ہول سیل گروسرز ایسوسی ایشن روٓف ابراہیم کے مطابق کراچی میں صرف ذخیرہ شدہ چینی فروخت کی جارہی ہے جس سے فی کلوگرام چینی کی تھوک قیمت 178 تا 180روپے سے بڑھ کر 182روپے ہوگئی ہے جبکہ خوردہ قیمت 190 تا 195روپے سے بڑھکر 200روپے کی سطح پر آگئی ہے۔مزید برآں ٹی وی رپورٹ میں بتایا گیا کہ شوگر ملز مالکان نے اضافی سٹاک کے نام پر چینی برآمد کرنے کی اجازت لی،چینی برآمد کرکے مقامی سطح پر قیمتیں بڑھا دیں،7 ماہ میں 60 روپے فی کلو اضافہ ہو چکا ہے ، مقامی مارکیٹ میں چینی کی قیمتیں بڑھا کر اربوں روپے کی دیہاڑیاں لگائی جارہی ہیں۔دستاویزکے مطابق 2020 تک حکومت سے چینی برآمد کرنے کیلئے 4ارب 12کروڑ کی سبسڈی بھی لی، 26شوگرملز نے 4لاکھ میٹرک ٹن چینی برآمد کرنے کیلئے حکومت سے سبسڈی لی، 2015 سے 2020 تک چینی برآمد کرنے کے نام پر بھی بڑے فراڈ کا انکشاف ہواہے۔شوگر ملزمالکان نے افغانستان کو 23 لاکھ 55 ہزار میٹرک ٹن چینی برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے ، افغان حکومت کے ڈیٹا کے مطابق 15لاکھ میٹرک ٹن چینی افغانستان آئی، افغانستان بھیجی گئی 7لاکھ 78ہزار میٹرک ٹن چینی کا ریکارڈ ہی دستیاب نہیں ، ماضی میں گٹھ جوڑ سے قیمتیں بڑھانے پر 38 شوگر ملز کے خلاف مقدمات بھی ہوچکے ہیں۔