معیشت مستحکم، غذائی اشیاء کی قیمتیں کم، زیادہ ہوتی رہتی ہیں‘ ایف بی آر کے اضافی اختیارات کیخلاف پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے‘ 5کروڑ سے زائد سیلز ٹیکس غبن کرنیوالوں پر لاگو ہونگے:محمد اورنگزیب

19جولائی کو ملک میں پہیہ جام ہڑتال وزیر خزانہ نے تاجروں کو مذاکرات کیلئے بلا لیا
 تاجر اسلام آباد آئیں مل کر بات کریں گے، معاملات کے حوالے سے سمجھانے کی کوشش بھی کریں گے،  ایف بی آر کے اختیارات کا انکم ٹیکس سے کوئی تعلق نہیں،  تنخواہ دار طبقے کے لئے ٹیکس ریٹرن فارم کو آسان بنایا جا رہا ہے 

حکومت کے دانشمندانہ اقدامات سے معیشت مستحکم ہورہی ہے ، ، گردشی قرضے میں کمی لانے کے لیے سنجیدہ اقدامات جاری ہیں، حکومت نے اپنے اخراجات میں کمی کی ہے:وفاقی وزیر خزانہ کی ِکرچی میں  پریس کانفرنس 

کراچی(آئی این پی )ملک کی تمام ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشنز نے تاجر برادری کا ساتھ دیتے ہوئے ملک بھر میں پہیہ جام ہڑتال کا اعلان کر دیا۔کراچی گڈز کیریئر ایسوسی ایشن کے سربراہ ملک شیر خان نے اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ٹرانسپورٹ برادری تاجروں کے ساتھ ہے، 19 جولائی کو ملک میں کہیں بھی کوئی سپلائی یا کوئی گاڑی نہیں چلے گی۔ اگر تاجر ہڑتال طویل کرنا کا کہیں تو بھی ہم تیار ہیں۔انہوں نے کہا کہ تمام ٹرانسپورٹرز 19 جولائی کو کراچی چیمبر آف کامرس کی ہڑتال میں شریک ہوں گے، جب تک کراچی چیمبر کے مطالبات پورے نہیں ہوں گے پہیہ جام ہڑتال ہوگی اور ملک بھر میں گڈز ٹرانسپورٹ بند رہے گی۔

دریں اثناء وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے تاجروں کو مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے   ایف بی آر کے اختیارات کا انکم ٹیکس سے کوئی تعلق نہیں،  تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس ریٹرن فارم کو آسان بنایا جا رہا ہے ،حکومت کے دانشمندانہ اقدامات سے معیشت مستحکم ہورہی ہے ، گردشی قرضے میں کمی لانے کے لیے سنجیدہ اقدامات جاری ہیں۔ان  خیالات کااظہار انہوں نے کراچی میں پریس کانفرنس  میں کیا ۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ تاجر اسلام آباد آئیں مل کر بات کریں گے، معاملات کے حوالے سے تاجروں کو سمجھانے کی کوشش بھی کریں گے۔محمد اورنگزیب نے واضح کیا کہ ایف بی آر کے اختیارات کا انکم ٹیکس سے کوئی تعلق نہیں، ایف بی آر کے اضافی اختیارات پر چیمبرز کے صدور سے اہم ملاقات  آج  ہوگی، اور انہیں بھی سمجھائیں گے۔ ایف بی آر کے اضافی اختیارات 5کروڑ روپے سے زائد سیلز ٹیکس غبن کرنے والے فرد پر لاگو ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کے اضافی اختیارات کے خلاف پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے، ایف بی آر کے اضافی اختیارات کو اسٹینڈنگ کمیٹی کی مشاورت سے اسمبلی سے منظور کروایا گیا اور اضافی اختیارات سیلز ٹیکس فراڈ کو روکنے کے لیے نافذ کیے گئے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ گرفتاری کا اختیار کمشنر کو نہیں بلکہ ایک 3 رکنی اعلی سطحی کمیٹی کو حاصل ہوگا۔  محمد اورنگزیب نے کہا کہ  حکومت کے دانشمندانہ فیصلوں کی بدولت پاکستان کی معیشت بتدریج مستحکم ہو رہی ہے، جبکہ گردشی قرضے میں کمی لانے کے لیے سنجیدہ اقدامات جاری ہیں۔وزیر خزانہ نے کہا کہ مالی سال 2025 میں معاشی اشاریوں میں بہتری دیکھنے کو ملی ہے۔ بینکس کے ساتھ ملاقات میں صنعتی یونٹس کی بحالی، نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی اور بینکنگ سیکٹر کے کردار پر بھی مشاورت کی گئی۔گورنر اسٹیٹ بینک اور کمرشل بینکس کے صدور سے ملاقات ہوئی، ان سے پوچھا ہے کہ معاشی استحکام میں بینک کیا کردار ادا کرسکتے ہیں۔وزیر خزانہ نے کہا کہ معاشی ترقی میں بینکوں کا اہم کردار ہے، نجی شعبے کے قرض میں اضافہ ہونا چاہیے، ہم گردشی قرضے کو کم کر رہے ہیں، نجکاری میں بینکس کا کردار ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ بیمار صنعتوں کو دوبارہ فعال کرنے میں بینکس کا اہم کردار ہوسکتا ہے، مقامی اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو ساتھ لے کر چل رہے ہیں، حکومت نے اپنے اخراجات میں کمی کی ہے، ہم نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے مسائل کو بھی سنا ہے اور معاشی استحکام میں حائل رکاوٹوں کو بھی دور کیا۔   انہوں نے کہا معیشت مستحکم، غذائی اشیاء کی قیمتیں کم، زیادہ ہوتی رہتی ہیںوزیراعظم ہر وزارت کی کارکردگی کا ذاتی طور پر جائزہ لے رہے ہیں۔ تاجروں اور اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جا رہے ہیں، جبکہ نجکاری میں بینکنگ سیکٹر کا اہم کردار ہوگا۔محمد اورنگزیب کQ مطابق بیرونی سرمایہ کاروں کا منافع باہر جانے، ایل سی نہ کھلنے کے مسائل ختم ہوگئے، 30 جون کو ختم ہونے والے مالی سال میں ملٹی نیشنلز کا 2 ارب 30 لاکھ ڈالر کا منافع باہر گیا ہے، ایف بی آر کی اضافی طاقت کا انکم ٹیکس نہیں سیلز ٹیکس سے تعلق ہے۔تنخواہ دار طبقے سے متعلق سوال پر محمد اورنگزیب نے بتایا کہ حکومت نے ان کے لیے ٹیکس گوشواروں کا فارم آسان بنا کر ایف بی آر کی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کر دیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ گنجائش کے مطابق تنخواہ دار طبقے کو ریلیف فراہم کر دیا گیا ہے اور ان کی سہولت کے لیے گوشواروں کو آسان بنایا گیا ہے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس گوشواروں کا نہایت آسان فارم ایف بی آر کی ویب سائٹ پراپ لوڈ کر دیا گیا ہے، جس کا دائرہ کار آئندہ مرحلے میں چھوٹے تاجروں اور ایس ایم ایز تک بھی بڑھایا جائے گا