بنگلادیش کرکٹ بورڈ کے ڈائریکٹر نظم الاسلام کے متنازع بیان کے بعد بنگلادیشی کھلاڑیوں نے تمام فارمیٹ کی کرکٹ کا بائیکاٹ کرنے کی دھمکی دی اور ان سے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق نظم الاسلام نے کہا تھا کہ اگر کھلاڑی ورلڈکپ میں بائیکاٹ کریں تو انہیں مالی ازالہ نہیں دیا جائے گا، جس کے بعد کھلاڑیوں نے سخت ردعمل دیا۔کرکٹ ویب سائٹس کے مطابق کھلاڑیوں کی بائیکاٹ کی دھمکی کے بعد بنگلادیش پریمیئر لیگ (BPL) کے میچز بھی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔دوسری جانب، بنگلادیش کرکٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے صدر محمد متھون نے کہا کہ:"نظم الاسلام کو بی پی ایل میچز سے قبل مستعفی ہو جانا چاہیے، بصورت دیگر کرکٹرز نہیں کھیلیں گے۔ ان کے ریمارکس کھلاڑیوں کے وقار، پروفیشنل ازم اور عزت کے خلاف ہیں۔"
اسی دوران بنگلادیش کرکٹ بورڈ نے بھی اعلامیہ جاری کرتے ہوئے نظم الاسلام کے بیان سے لاتعلقی کا اعلان کیا اور کہا کہ:"بورڈ کے ترجمان کے علاوہ کسی ڈائریکٹر کے اس طرح کے بیان کی ذمے داری بورڈ نہیں لیتا۔ کرکٹرز کی توہین کرنے والے افراد کے خلاف ڈسپلنری ایکشن لیا جائے گا۔"