اٹک میں سونے کے ذخائر کی دریافت، 800 ارب روپے کی مالیت

اٹک میں سونے کے ذخائر کی دریافت، 800 ارب روپے کی مالیت

ویب ڈیسک: اٹک میں دریائے سندھ کی 32 کلومیٹر طویل پٹی میں 28 لاکھ تولے سونے کے ذخائر کی دریافت ہوئی ہے، جن کی مالیت 800 ارب روپے سے زیادہ بتائی جا رہی ہے۔

 یہ ذخائر ضلعی تحصیلوں میں گیس اور آئل کے ذخائر کے علاوہ جیولوجیکل سروے رپورٹ میں سامنے آئے ہیں۔سابق نگران وزیر معدنیات، ابراہیم حسن مراد نے اس دریافت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ سونا غیر قانونی طور پر نکالا جا رہا ہے، اور ضلعی انتظامیہ کی سستی کی وجہ سے ایک مخصوص مافیا دریائے سندھ کے کنارے مشینوں سے سونا نکالنے میں مصروف ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ مقامی پولیس اور انتظامیہ کی غفلت پر سوالات اٹھتے ہیں کیونکہ علاقے میں پولیس چوکی ہونے کے باوجود مشینوں کی نقل و حرکت جاری ہے۔حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ان ذخائر کو لیز پر دے کر شفاف بولی کے ذریعے حاصل شدہ رقم قومی خزانے میں جمع کرائی جائے اور ضلع کی ترقی پر خرچ کی جائے تاکہ ضلع کے غریب عوام کا معیار زندگی بلند کیا جا سکے۔

اس دریافت کو علاقے کی معیشت میں انقلاب کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، اور اگر اس سونے کی مناسب طریقے سے نکاسی اور استعمال کیا جائے، تو یہ علاقے کی ترقی میں نمایاں کردار ادا کر سکتا ہے۔ تاہم، غیر قانونی نکالنے کے واقعات کے پیش نظر، حکومت اور انتظامیہ سے شفافیت اور مناسب اقدامات کی توقع کی جا رہی ہے تاکہ اس قیمتی قدرتی وسائل کا فائدہ عوامی فلاح و بہبود کے لیے ہو۔