سڈنی کے ساحل پرر وشنی کا تہوار غم میں تبدیل ،40 زخمی ،ایک حملہ آوربھی ماراگیا دوسرا گرفتار

 آسٹریلیا:یہودیوں کے اجتماع پر فائرنگ ،16 ہلاک 
دو مسلح افراد نے اندھا دھند فائرنگ کی ، مرنے والوں میں اسرائیلی شہری اوربرطانوی نڑاد ربی بھی شامل، پاکستان ،ایران ،امریکا ،سمیت عالمی برادری کی شدید مذمت ،امریکا کی براؤن یونیورسٹی میں فائرنگ ، 2 طلبا ہلاک، 9 زخمی ،مشتبہ شخص گرفتار 
سڈنی،واشنگٹن ،برلن، اسلام آباد (خصوصی رپورٹ)آسٹریلیا میں یہودیوں کے اجتماع پر فائرنگ کے نتیجے میں 16افراد ہلاک اور40زخمی ہو گئے ،واقعے کے بعد سڈنی کے ساحل پرر وشنی کا تہوار غم میں تبدیل ہو گیا ،ایک حملہ آوربھی ماراگیا جبکہ دوسرے کو گرفتار کر لیا گیا۔تفصیلات کے مطابق فائرنگ کا واقعہ سڈنی کے بونڈی بیچ پر پیش آیا جہاں دومسلح افراد نے شہریوں پر اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 16 افراد ہلاک ہوگئے جبکہ 2 پولیس اہلکاروں سمیت 40 زخمی ہیں۔مرنے والوں میں ایک اسرائیلی شہری اور برطانوی نڑاد ربی بھی شامل ہے، آسٹریلوی پولیس نے واقعے کو دہشتگردی قرار دیتے ہوئے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں ایک فائرنگ کرنے والا بھی شامل ہے جبکہ دوسرے حملہ آور کوحراست میں لے لیا گیا ہے۔فائرنگ کاواقعہ یہودیوں کے تہوار ہنوکا کی تقریب کے دوران پیش آیا۔ فائرنگ کے بعد پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور مقامی آبادی کو بونڈی بیچ سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔ دوسری جانب آسٹریلوی وزیراعظم انتھونی البانیز نے ساحل پر فائرنگ کے واقعے کو تکلیف دہ اور ناقابلِ فہم قرار دیا۔ آسٹریلوی مسلم تنظیموں نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا تشدد اور جرائم کی ایسی کارروائیوں کی ہمارے معاشرے میں کوئی جگہ نہیں،ذمہ داروں کو مکمل طور پر جواب دہ بنایا جائے اور قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے۔صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیر اعظم محمدشہباز شریف نے فائرنگ کے افسوسناک واقعے میں ہلاک افراد کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔ایوان صدر سے جاری بیان کے مطابق صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان خود دہشت گردی سے شدید متاثر رہا ہے، ایسے حملوں سے معاشروں کو پہنچنے والے درد اور صدمے کو بخوبی سمجھتا ہے۔ انہوں نے معصوم شہریوں کے خلاف تشدد کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور اس مشکل وقت میں آسٹریلیا کی حکومت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے دہشت گردی کی تمام صورتوں کے خلاف پاکستان کے اصولی موقف کو دہرایا۔وزیراعظم محمد شہباز شریف نے سڈنی کی بونڈی بیچ پر دہشت گرد حملے کے متاثرین کے ساتھ دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے۔ ایکس پر ایک بیان میں وزیراعظم نے کہا کہ ہم اس مشکل گھڑی میں آسٹریلیا کی حکومت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایک بیان میں کہا ہم اس دہشت گرد حملے سے شدید رنجیدہ ہیں۔دہشت گردی ایک سراسر برائی ہے، انسانیت کے خلاف ناقابلِ معافی جرم ہے۔ پاکستان روزانہ اس عفریت کا سامنا کرتا ہے، اس لیے ہم اس درد کو سمجھتے ہیں۔ پاکستان آسٹریلیا کے ساتھ کھڑا ہے۔اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ، یورپی کمیشن کی صدر ارسلا ، برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر، فرانسیسی صدر ایمانوئل ،امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو اور دیگر عالمی رہنمائوں نے یہود مخالف تشدد کی مذمت کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے اظہارِ ہمدردی کیا۔ اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے واقعے پر شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس سفاکانہ اور مہلک حملے سے بہت زیادہ خوفزدہ ہیں۔یہودی خاندانوں پر ہونے والے سفاکانہ اور مہلک حملے کی مذمت کرتا ہوں۔اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے آسٹریلوی حکومت پر یہود مخالف جذبات کو ہوا دینے کا الزام عائد کیا ہے۔ نیتن یاہو نے کہا کہ سڈنی میں یہودی تقریب پر ہونے والے حملے سے قبل آسٹریلوی پالیسیوں نے یہود دشمنی میں اضافہ کیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ تین ماہ قبل انہوں نے وزیراعظم انتھونی البانیز کو خط لکھ کر خبردار کیا تھا کہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان یہود دشمنی کو مزید بھڑکا رہا ہے۔ نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ جب قیادت خاموش رہے تو یہود دشمنی ایک ناسور کی طرح پھیلتی ہے۔ایران کے محکمہ خارجہ نے یہودی تقریب پر ہونے والے پرتشدد حملے کی سخت مذمت کی ہے،۔ ترجمان اسماعیل بقائی نے ایک بیان میں کہا کہ انسانیت کا قتل اور دہشت گردی کہیں بھی قابل قبول نہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ہر قسم کے پرتشدد اقدامات کی مخالفت کی جانی چاہیے۔عالمی برادری ایسے واقعات کے خلاف مشترکہ اقدامات کرے ۔دوسری جانب امریکا کی براؤن یونیورسٹی میں فائرنگ سے 2 طلبا ہلاک اور 9 زخمی ہوگئے۔ حکام کے مطابق زخمیوں میں ایک کی حالت نازک ہے ، سات مستحکم جبکہ ایک کو ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا ہے۔ واقعے کے باعث اتوار کے تمام امتحانات ملتوی کر دیئے گئے۔روہڈ آئی لینڈ میں واقع براؤن یونیورسٹی کو فائرنگ کے باعث بند کردیا گیا۔حملہ انجینئرنگ بلڈنگ پر کیا گیا ، پولیس نے ایک مشتبہ شخص کو حراست میں لے لیا۔ فائرنگ کے وقت کئی طلبا نے اپنی جان کلاس رومز کے ڈیسک کے نیچے چھپ کر بچائی۔حملے کے وقت طلبا امتحانات میں مصروف تھے۔ ہلاک اور زخمی ہونے والے افراد کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔یاد رہے امریکا کے تعلیمی اداروں میں فائرنگ کا اس سال یہ 70 واں واقعہ ہے۔علاوہ ازیں جرمنی میں پانچ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جن پر الزام ہے کہ وہ کرسمس مارکیٹ میں گاڑی چڑھا کر لوگوں کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی میں شامل تھے۔حکام کے مطابق گرفتار افراد میں تین مراکشی، ایک مصری اور ایک شامی شہری شامل ہے۔ یہ گرفتاریاں جنوبی ریاست باویریا میں عمل میں آ ئیں۔ حکام نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ اس منصوبے کی محرک مذہبی شدت پسندی ہو سکتی ہے۔استغاثہ نے بتایا کہ 56 سالہ مصری شہری پر الزام ہے کہ اس نیگاڑی کے ذریعے حملے کی ترغیب دی تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد کو ہلاک یا زخمی کیا جا سکے۔ مراکشی شہریوں پر الزام ہے کہ انھوں نے اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ منصوبہ بند حملہ کب ہونا تھا اور کس مارکیٹ کو نشانہ بنایا جانا تھا،پانچوں ملزم ہفتے کو مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیے گئے۔اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے آسٹریلیا کی حکومت پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ قریباً چار ماہ پہلے کینبرا کو خبردار کر چکے تھے کہ آسٹریلوی حکومت کی پالیسی ملک میں یہود دشمنی کو فروغ دے رہی ہے اور اس عمل کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔ ایک سرکاری اجلاس کے دوران انھوں نے ایک خط کا حوالہ دیا جوان کے مطابق انھوں نے 17 اگست کو آسٹریلوی وزیرِ اعظم انتھونی البانیسی کو بھیجا تھا اور اس میں انھوں نے آسٹریلیا پر یہود دشمنی کی آگ پر تیل ڈالنے کا الزام لگایا تھا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں کرسمس استقبالیہ کے آغاز پر دو مہلک حملوں پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ صدر ٹرمپ نے رہوڈ آئی لینڈ میں براون یونیورسٹی فائرنگ اور آسٹریلیا کے بونڈی بیچ پر یہودی برادری کو نشانہ بنانے والے حملے کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ براون یونیورسٹی واقعے میں دو افراد جاں بحق اور نو زخمی ہوئے۔ صدر ٹرمپ کے مطابق جاں بحق افراد ‘‘ہم پر جنت سے نظر رکھے ہوئے ہیں۔’’ انہوں نے متاثرین کے لواحقین سے ہمدردی اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کی دعا کی۔فلسطینی اتھارٹی نے آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں بونڈی بیچ پر یہودی برادری کو نشانہ بنانے والے فائرنگ کے واقعے کی سخت مذمت کی ہے۔ فلسطینی وزارتِ خارجہ نے بیان میں کہا کہ وہ اس مشکل گھڑی میں دوست ملک آسٹریلیا، اس کی حکومت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہے۔ بیان میں ہر قسم کے تشدد، دہشت گردی اور انتہا پسندی کو انسانی اقدار اور اخلاقی اصولوں کے منافی قرار دیا گیا۔ وزارت نے حملے میں جاں بحق افراد کے لواحقین سے تعزیت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا بھی کی۔