وفاق اور صوبوں کے درمیان بجلی بلوں کی ادائیگی پر تنازع شدت اختیار کر گیا ہے، کیونکہ پنجاب اور خیبرپختونخوا نے وفاق کی جانب سے این ایف سی حصے سے اربوں روپے کی براہِ راست کٹوتیوں کو غیر مجاز قرار دے کر سخت احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق پنجاب کے حصے سے 7 ارب 76 کروڑ روپے اور خیبرپختونخوا کے حصے سے 3 ارب 42 کروڑ روپے کاٹے گئے۔ دونوں صوبوں کا مؤقف ہے کہ یہ کٹوتیاں کسی قسم کی مشاورت یا اجازت کے بغیر کی گئیں، جس سے صوبائی مالی منصوبہ بندی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔پنجاب حکومت نے وفاق سے مطالبہ کیا ہے کہ 19 جون کو جاری ہونے والا کٹوتی آرڈر فوری واپس لیا جائے اور آئندہ صوبائی اجازت کے بغیر این ایف سی حصے میں کمی نہ کی جائے۔ صوبائی محکمہ توانائی پنجاب نے وفاق سے بجلی واجبات اور بقایا جات کا مکمل حساب فراہم کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے، ساتھ ہی ایک نیا بین الحکومتی ادائیگی فریم ورک بنانے کی تجویز دی ہے تاکہ مستقبل میں ایسے تنازعات نہ ہوں۔
خیبرپختونخوا حکومت کا کہنا ہے کہ یہ کٹوتیاں سی سی آئی کے 2014 کے فیصلے اور طے شدہ ایس او پیز کی خلاف ورزی ہیں۔ پنجاب کے محکمہ توانائی کا مزید دعویٰ ہے کہ بجلی ڈیوٹی کی مد میں 32 ارب روپے کے بقایا جات ابھی تک صوبے کو منتقل نہیں کیے گئے۔یہ تنازعہ اس وقت پیدا ہوا ہے جب ملک پہلے ہی مالی دباؤ اور توانائی شعبے میں واجبات کے بحران کا شکار ہے، اور ماہرین کے مطابق اگر یہ معاملہ حل نہ ہوا تو وفاق اور صوبوں کے تعلقات مزید کشیدہ ہو سکتے ہیں۔