آئی ایم ایف سپرنگ میٹنگز کی وجہ سے قسط موصول ہونے میں تاخیر ہوسکتی ہے،تیل کی قیمتوں میں کمی سے فائدہ ہوگا، معیشت پر امریکی ٹیریف کا اثر محدود رہے گا، جون تک زرمبادلہ کے ذخائر 14 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گے
افراطِ زر کی شرح مالی سال کے اختتام پر 5 سے 7 فیصد تک رہے گی‘درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لئے سخت پالیسی اقداما ت کی بدولت انٹربینک اور اوپن مارکیٹ کے درمیان خلیج کم ہوئی اور شرح مبادلہ میں استحکام آیا:تقریب سے خطاب
کراچی(آن لائن‘آئی این پی)گورنر سٹیٹ بینک آف پاکستان جمیل احمد خان نے کہا ہے واشنگٹن میں عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی 2 ہفتے تک جاری رہنے والی اسپرنگ میٹنگز کی وجہ سے آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کو قرض کی اگلی قسط موصول ہونے میں تاخیر ہوسکتی ہے جب کہ آئندہ ماہ سے افراط زر میں اضافہ ہوسکتا ہے‘گذشتہ ماہ سے مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے‘اس میں اگلے ماہ مزید اضافہ ہوسکتا ہے؟۔پاکستان فنانشل لٹریسی ویک کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ملک میں مالیاتی شمولیت بڑھانے کے لیے اس ہفتے میں متعدد سرگرمیوں کا انعقاد کیا جائے گا، ان سرگرمیوں کا مقصد مالیاتی خدمات کے بارے میں آگہی فراہم کرنے کے ساتھ بااختیار بنانا ہے، دنیا بھر میں مالیاتی آگہی کو اہمیت دی جارہی ہے، ممالک مالیاتی تعلیم میں بھاری سرمایہ کاری کر رہے ہیں تاکہ معیشت کو مضبوط بناسکیں۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے بھی اس ضمن میں ٹھوس اقدامات اٹھائے ہیں‘انہوں نے کہازرمبادلہ کے ذخائر بہتر ہیں، مجھے اپنی ٹیم پر 98 فیصد تک اعتماد ہے، آئندہ ماہ سے افراطِ زر میں اضافہ ہوگا اس کے بعد افراطِ زر مالی سال کے اختتام پر 5 سے 7 فیصد تک رہے گی۔گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ مالیاتی خواندگی ہفتے کے دوران اسٹیٹ بینک اور دیگر مالیاتی اداروں کی جانب سے مختلف سرگرمیاں جاری رہیں گی جن کا مقصد عوام کو مالیاتی نظام، سرمایہ کاری اور بچت سے متعلق آگاہی فراہم کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ مرکزی بینک نے 2028 تک مالیاتی شمولیت کا جامع منصوبہ مرتب کیا ہے جس کے تحت موجودہ 64 فیصد مالیاتی شمولیت کو 75 فیصد تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ خواتین کی مالیاتی شمولیت میں صنفی فرق کو کم کرتے ہوئے موجودہ 47 فیصد سے 25 فیصد اضافہ کیا جائے گا تاکہ یہ 72 فیصد تک پہنچے۔ جمیل احمد نے 2022 کے معاشی حالات پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت ملک کو افراطِ زر میں تیزی اور کرنٹ اکائونٹ خسارے جیسے دو بڑے مسائل کا سامنا تھا۔ زرمبادلہ ذخائر صرف دو ہفتوں کی درآمدات کے برابر رہ گئے تھے جبکہ ایکسچینج ریٹ میں بھی شدید تنزلی دیکھی گئی۔