عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 2 فیصد سے زائد بڑھ گئی ہیں، جس کی بڑی وجہ سعودی عرب میں حوثیوں کے نئے حملے، آبنائے ہرمز میں ایک تجارتی جہاز کو نشانہ بنایا جانا اور سعودی عرب کی اہم تیل پائپ لائن کی عارضی بندش بتائی جا رہی ہے۔
رائٹرز کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت 2.90 ڈالر یعنی 2.77 فیصد اضافے کے بعد 107.51 ڈالر فی بیرل ہوگئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کی قیمت 2.27 ڈالر یعنی 2.27 فیصد اضافے سے 102.32 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئی۔ کاروبار کے آغاز میں تیل کی قیمتوں میں 3 فیصد سے زائد اضافہ بھی ریکارڈ کیا گیا۔سعودی سرکاری میڈیا نے جنوبی صوبے جازان میں حوثیوں کے حملے سے متاثرہ گھروں اور ایک مسجد کی ویڈیو جاری کی ہے۔ حوثیوں نے پڑوسی صوبے میں سعودی فوجی اڈے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ بھی کیا ہے، تاہم اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔
دوسری جانب برطانوی میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی کے مطابق آبنائے ہرمز میں ایک بحری جہاز کو میزائل یا کسی دوسرے پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں جہاز میں آگ بھڑک اٹھی اور عملے کو محفوظ مقام پر منتقل کرنا پڑا۔علاقائی کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر میں توانائی کی ترسیل متاثر ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن کی عارضی بندش نے عالمی منڈی میں سپلائی کے خطرات کو مزید نمایاں کردیا ہے۔