غلام مرتضیٰ باجوہ
ہماری روزمرہ زندگی میں بعض ایسے مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں جو بظاہر معمولی ہوتے ہیں، مگر غور کیا جائے تو ان میں ہمارے معاشرتی رویوں کی پوری تصویر چھپی ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر ایک شخص پکوڑے کھانے کے بعد بیمار ہو کر ہسپتال پہنچتا ہے۔ رشتہ دار تیمارداری کے لیے مریض کے ہاتھ میں پھلوں کا تھیلا لیے ہسپتال آتے ہیں، خیریت دریافت کرتے ہیں، مریض کو صحت اور پرہیز کی نصیحت کرتے ہیں، لیکن چند لمحوں بعد یہی تیماردار ہسپتال کے باہر کھڑے ہو کر مزے سے پکوڑے کھا رہے ہوتے ہیں۔یہ صرف پکوڑوں کی بات نہیں۔ ہمارے معاشرے میں یہ تضاد زندگی کے تقریباً ہر شعبے میں نظر آتا ہے۔ ہم دوسروں کو احتیاط، دیانت، قانون پسندی، محنت اور ذمہ داری کا درس دیتے ہیں، مگر جب عمل کی باری آتی ہے تو اپنی سہولت، مفاد اور ضرورت کو سب سے مقدم سمجھ لیتے ہیں۔
آج کرپشن کے خلاف بات کرنے والے بھی بعض اوقات اسی تضاد کا شکار دکھائی دیتے ہیں۔ ایک شخص دوسرے کو نصیحت کرتا ہے کہ غلط کام مت کرو، قانون کی خلاف ورزی نہ کرو، رشوت مت لو، ورنہ سزا ہو جائے گی۔ لیکن موقع ملتے ہی وہی شخص اپنے لیے قانون میں راستہ تلاش کرنے لگتا ہے۔ دوسروں کے لیے اصول سخت اور اپنے لیے نرم!یہ رویہ صرف فرد کا مسئلہ نہیں، بلکہ ایک اجتماعی اخلاقی کمزوری ہے۔
ہم پٹواری سے کہتے ہیں کہ عوام کو غیرضروری طور پر دفتر کے چکر نہ لگواؤ، کام میرٹ پر کرو اور کسی ناجائز رقم کا مطالبہ نہ کرو۔ یہ مطالبہ بالکل درست ہے۔ لیکن اسی معاشرے میں بعض لوگ اپنا کام جلدی کروانے کے لیے خود ’’چائے پانی‘‘ کی پیشکش بھی کرتے ہیں۔ پھر جب کام کے لیے رقم طلب کی جائے تو ہم پورے نظام کو کرپٹ قرار دیتے ہیں۔یقیناً رشوت لینا جرم ہے، مگر رشوت دینے کی ذہنیت بھی اس مسئلے کو مضبوط کرتی ہے۔ اگر ہم ہر کام قانون اور میرٹ کے مطابق کروانے کی کوشش کریں، غیرقانونی سہولت کے لیے رقم دینے سے انکار کریں اور بدعنوانی کی شکایت متعلقہ ادارے تک پہنچائیں تو معاشرتی رویے میں تبدیلی آنا شروع ہو سکتی ہے۔
اسی طرح سرکاری اور نجی ہسپتالوں کا معاملہ بھی ہمارے اجتماعی رویوں کی عکاسی کرتا ہے۔ ڈاکٹر اور طبی عملہ ایک انتہائی مقدس اور حساس شعبے سے وابستہ ہیں۔ مریض اور اس کے لواحقین ان پر اعتماد کرتے ہیں۔ اس اعتماد کو صرف پیشہ ورانہ ذمہ داری نہیں بلکہ انسانی امانت سمجھا جانا چاہیے۔جہاں کسی ڈاکٹر، نرس یا اہلکار کی غفلت ہو وہاں احتساب ضروری ہے، لیکن دوسری طرف مریض اور لواحقین کو بھی ہسپتال کے نظم و ضبط، ڈاکٹر کی ہدایات اور طبی احتیاطوں پر عمل کرنا چاہیے۔ اگر ڈاکٹر پرہیز کا کہے اور مریض کے لواحقین باہر کھڑے ہو کر وہی چیز کھاتے پھریں جس سے مریض کو منع کیا گیا ہے تو مسئلہ صرف ہسپتال کا نہیں، ہماری اپنی سوچ کا بھی ہے۔ہم اکثر کہتے ہیں کہ ’’زمانہ بہت خراب ہے‘‘۔ یہ جملہ ہمارے ہاں اتنی کثرت سے بولا جاتا ہے کہ شاید ہم نے یہ سوچنا ہی چھوڑ دیا ہے کہ زمانہ آخر بنتا کس سے ہے؟ زمانہ ہم سے
بنتا ہے۔ معاشرہ ہم سے بنتا ہے۔ ادارے بھی بالآخر انسان ہی چلاتے ہیں۔اگر ہر شخص یہ سوچے کہ خرابی کہیں اور ہے اور اصلاح کی ضرورت صرف دوسرے کو ہے تو معاشرہ کبھی درست نہیں ہو سکتا۔
اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ پنجاب کی ہیلپ لائن ’’1350‘‘ موجود ہے، جبکہ ’’Report Corruption‘‘ ایپ کے ذریعے شہری بدعنوانی کی شکایت اور شواہد فراہم کر سکتے ہیں۔ ایپ کے مطابق بعض صورتوں میں شناخت ظاہر کیے بغیر بھی بدعنوانی کی اطلاع دینے کی سہولت موجود ہے۔اسی سلسلے میں پنجاب کے محکمہ گورننس ریفارمز اینڈ پبلک گریوینسز کی جانب سے واٹس ایپ چیٹ بوٹ بھی متعارف کرایا گیا ہے، جس کے ذریعے شہری پنجاب میں بدعنوانی سے متعلق شکایت درج کرا سکتے ہیں اور اسے آن لائن نظام کے ذریعے متعلقہ سطح تک پہنچایا جاتا ہے۔ یہ اقدامات قابل تحسین ہیں کیونکہ جدید دور میں احتساب صرف چھاپوں یا کارروائیوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ شہری کو شکایت درج کرانے، ثبوت فراہم کرنے اور کارروائی کی پیش رفت جاننے کے لیے آسان اور محفوظ راستہ بھی ملنا چاہیے۔ا
حکومت کے لیے اصل امتحان یہی ہے کہ ان اقدامات کا دائرہ صرف اعلانات تک محدود نہ رہے بلکہ عام شہری کو عملی ریلیف بھی ملے۔ اگر کسی غریب آدمی کا کام صرف اس لیے رکا ہوا ہے کہ وہ ناجائز رقم نہیں دے سکتا تو اس کی شکایت پر فوری کارروائی اس نظام کی حقیقی کامیابی ہوگی۔اسی طرح افسران اور ملازمین کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ سرکاری عہدہ اختیار نہیں بلکہ ذمہ داری ہے۔ عوام ٹیکس دیتے ہیں، ادارے اسی رقم سے چلتے ہیں اور سرکاری ملازمین کو تنخواہیں بھی اسی نظام سے ملتی ہیں۔ لہٰذا شہریوں کے ساتھ عزت، شفافیت اور میرٹ سے پیش آنا کسی پر احسان نہیں بلکہ فرض ہے۔
حکومت پنجاب کی جانب سے بدعنوانی کے خلاف شکایتی نظام، ڈیجیٹل سہولیات اور احتسابی کارروائیوں کو مزید مؤثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔لیکن حکومت جتنا بھی مضبوط نظام بنا لے، جب تک معاشرہ اپنے رویے تبدیل نہیں کرتا، کرپشن کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں۔لہٰذا ’’زمانہ خراب ہے‘‘ کہنے سے پہلے ایک بار آئینے میں خود کو دیکھنا ہوگا۔ممکن ہے خرابی زمانے میں کم اور ہمارے رویوں میں زیادہ ہو۔اور شاید تبدیلی کا آغاز بھی کسی دوسرے کے دفتر، ہسپتال یا پٹوار خانے سے نہیں بلکہ ہمارے اپنے گھر، اپنی میز اور اپنے کردار سے ہونا چاہیے۔پکوڑے ضرور کھائیں، مگر مریض کو نصیحت کرنے سے پہلے یہ ضرور سوچیں کہ جو اصول ہم دوسروں کے لیے بیان کر رہے ہیں، کیا ہم خود بھی ان پر عمل کرتے ہیں؟کیونکہ ’’قومیں صرف قانون بنانے سے نہیں، قانون پر عمل کرنے سے مضبوط ہوتی ہیں؛ اور معاشرے صرف نصیحت سے نہیں، کردار سے بدلتے ہیں۔