تصور حسین شہزاد
امریکہ نے جب سے ایران کیساتھ ’’پنگا‘‘ لیا ہے، مسلسل خسارے میں جا رہا ہے۔ امریکہ کا سپر پاور ہونے کا زعم بھی خاک میں مل چکا ہے، جبکہ اس کے دفاعی نظام کے بھی پرخچے اْڑ چکے ہیں اور اب عرب ممالک اپنے دفاع کیلئے امریکہ کی بجائے ایران کی طرف دیکھ رہے ہیں اور اس حوالے سے عرب ممالک کے وزرائے خارجہ کا ایک اہم اجلاس سوموار(14 ستمبر) کو منعقد ہو رہا ہے، جس میں ایران مذکورہ عرب ممالک کو ان ممالک میں موجود امریکی اڈوں پر حملے کے حوالے سے بریفنگ دے گا۔ یوں ہم کہہ سکتے ہیں کہ مذکورہ عرب ممالک کو باور کروایا جائے گا کہ آپ کا دفاع امریکہ نہیں کر سکتا۔ اس لئے عرب ممالک اپنے دفاع کیلئے اپنا سرمایہ امریکہ پر ضائع نہ کریں، بلکہ امریکہ کو نکال باہر کریں اور خطے میں امن وامان کیلئے ایران اور عرب ممالک مل جل کر رہیں۔ اب امریکہ، ایران کیساتھ جنگ میں ایسا بْری طرح پھنسا ہے کہ اس کا اسلحہ بھی ختم ہونے کے قریب اور رعب و دبدبہ بھی ختم ہو گیا ہے۔ ٹرمپ اس جنگ میں پھنس تو گیا ہے، لیکن اب ’’کمبل‘‘ اسے چھوڑ نہیں رہا۔ اور نومبر میں ہونیوالے مڈٹرم انتخابات میں بھی ٹرمپ صاحب کی مقبولیت انتہائی منفی درجے پر آ گئی ہے، جس کی وجہ سے ٹرمپ اپنا غصہ امریکی میڈیا پر نکال رہے ہیں، کہ میڈیا سب کچھ سچ سچ کیوں دیکھا رہا ہے۔ اب یمن کے حوثیوں کی جانب سے سعودی جزیروں اوراملاک پر حملے کے بعد شہزادہ محمد بن سلمان نے 2 بار امریکی صدر کو ٹیلی فون کرکے مدد طلب کی ہے کہ ’’ہمیں یمنیوں سے بچا لو‘‘، مگر ٹرمپ کی جانب سے صاف جواب دیدیا گیا ہے۔ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ ایران کے بعد کسی اور جنگ میں مداخلت نہیں کرے گا۔ ظاہر ہے ٹرمپ کے پاس اسلحہ ہی نہیں، تو وہ جنگ کیسے کرے گا؟۔ اس لئے ٹرمپ نے واضح جواب دیدیا ہے۔ ہاں البتہ شہزادہ محمد بن سلمان کا دل رکھنے کیلئے ٹرمپ نے یہ ضرور کہہ دیا ہے کہ وہ یمنوں کیخلاف سعودی عرب کیساتھ انٹیلی جنس شیئرنگ ضرور کریں گے۔ تاکہ سعودی عرب یمنیوں کے حملے ناکام بنا سکے۔ شائد محمد بن سلمان جانتے ہیں کہ امریکہ کے پاس کتنی انٹیلی جنس معلومات ہیں، جو ایران نے امریکہ اڈوں پر حملے کرکے ثابت کر دیا ہے کہ ’’یہ ڈرامہ اب نہیں چلے گا‘‘۔ آئرلینڈ کے دورے کے دوران ڈبلن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب پر حالیہ حملوں کے بعد پیدا ہونیوالی صورتحال پر بھی بات کی، جس میں انہوں نے یقین دلایا کہ آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری آمدورفت کی بحالی اور خطے میں پیدا ہونیوالے تمام تر خدشات جلد حل ہو جائیں گے۔ صحافیوں کی جانب سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے مختصراً کہا کہ ’’سب کچھ بالکل ٹھیک ہو جائے گا‘‘۔ امریکی صدر کا یہ تازہ بیان آئرش صدر کیتھرین کونولی سے ملاقات کے بعد سامنے آیا ہے۔ میڈیا سے گفتگو میں ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ اور آئرلینڈ مل کر بہترین کام کرتے ہیں، ایران جنگ بہت جلد ختم ہو جائیگی اور جنگ ختم ہونے کے بعد تیل کی قیمتیں گر جائیں گی۔ دوران گفتگو ایک صحافی کی جانب سے سوال کیا گیا کہ کیا سعودی عرب سے متعلق تازہ خدشات کے تناظر میں ا?بنائے ہرمز سے آمدورفت بحال کرانے میں مدد کر سکتے ہیں؟ اس کے جواب میں امریکی صدر نے کہا کہ سعودی ولی عہد میرے اچھے دوست ہیں، سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران پر الزام تراشی کرتے ہوئے کہا سعودی عرب پائپ لائن پر حملے کا ذمہ دار غالباً ایران ہے، جبکہ حوثی امریکا کے ساتھ لڑائی نہیں چاہتے۔ ان کا کہنا تھا کہ حوثیوں
نے امریکی انتظامیہ سے رابطہ کرکے کہا کہ وہ تنازع میں امریکا کی براہ راست شمولیت نہیں چاہتے، یہی ترجیح دیں گے کہ ہم اس معاملے میں شامل نہ ہوں، وہ وہاں سے زیادہ تر جہازوں کو جانے دے رہے ہیں، صرف ایک ملک ہے جس کیساتھ وہ خوش نہیں، یہاں ٹرمپ کا اشارہ سعودی عرب کی طرف تھا۔ صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ ہم اس معاملے کو حل کر لیں گے۔ ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ امریکا محاصرہ اور جارحیت ختم کرے تو آبنائے ہرمز کھول دیں گے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے انڈین میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ امریکا جنگ سے اپنے مطلوبہ مقاصد حاصل نہ کر سکا تو بحری محاصرے کا راستہ اختیار کر لیا ہے، ایران امریکی جارحانہ اقدامات سے ڈرنے والا نہیں۔ مسعود پزشکیان نے کہا کہ ’’بحری راستہ ایران کی زندگی کا واحد انحصار نہیں، امریکا کی خام خیالی ہے کہ بحری ناکہ بندی سے ایران ہتھیار ڈال دے گا‘‘۔ ایران کیخلاف جنگ میں امریکہ اپنی ناکامی کا اب اعتراف تو نہیں کر رہا، لیکن جھوٹ کی بنیاد پر مسلسل ایسی رائے عامہ بنانے کیلئے کوشاں ہے کہ امریکی عوام کو گمراہ کرکے ان سے ووٹ بٹورے جا سکیں، لیکن امریکی میڈیا کی جانب سے حقائق پر مبنی رپورٹنگ نے بھی ٹرمپ کو پریشان کر رکھا ہے۔ ٹرمپ اب مشرق وسطیٰ سے نکلنے کا ارادہ کر چکا ہے، دوسری جانب چین نے بھی ایران امریکہ مصالحت کیلئے اپنا کردار ادا کرنے کی پیش کش کر دی ہے، جس سے توقع ہے کہ ٹرمپ چینی صدر کی اس پیشکش کا فائدہ اٹھا کر پتلی گلی سے نکل لے گا۔ اب ایران نے 7 مطالبات پیش کئے ہیں، جن کے حوالے سے تہران نے کہا ہے کہ امریکہ ہمارے یہ 7 مطالبات پورے کرے اور اپنے گھر جائے۔ ان 7 مطالبات کی تفیصل تو ابھی سامنے نہیں آئی، البتہ ایران نے مصالحت کاروں کو یہ فہرست تھما دی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ امریکہ ایران کے مطالبات تسلیم کرتا ہے یا مزید اپنی سبکی کیلئے مشرق وسطیٰ میں موجود رہتا ہے۔