پاکستان امداد کے بجائے تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دے رہا ہے، وزیر خزانہ

پاکستان امداد کے بجائے تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دے رہا ہے، وزیر خزانہ

وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان دیگر ممالک کے ساتھ شراکت داری میں امداد کے بجائے تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے کی جانب منتقل ہو رہا ہے۔

وزارت خزانہ کے اعلامیے کے مطابق محمد اورنگزیب نے سٹی میکرو فورم کے اجلاس میں شرکت کی، جہاں انہوں نے بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو پاکستان کی معاشی صورت حال اور اصلاحاتی ترجیحات پر بریفنگ دی۔وزیر خزانہ نے معاشی استحکام کی جانب پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان مسلسل تین سال سے بنیادی مالیاتی سرپلس حاصل کر رہا ہے، جبکہ مالیاتی خسارہ 22 سال کی کم ترین سطح پر آگیا ہے۔ انہوں نے زرمبادلہ کے ذخائر مضبوط بنانے کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر بھی روشنی ڈالی اور رواں مالی سال معاشی شرح نمو 4 فیصد یا اس سے زیادہ رہنے کی امید ظاہر کی۔اجلاس میں مالی وسائل کے ذرائع متنوع بنانے کے لیے پانڈا بانڈز، سکوک اور روپے میں مالیت مگر ڈالر میں ادائیگی والے بین الاقوامی بانڈ کے اجرا کے منصوبوں پر گفتگو ہوئی۔ وزیر خزانہ نے قرض لینے کی لاگت کم کرنے اور قرضوں کی ادائیگی کی مدت بڑھانے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

وزارت خزانہ کے مطابق اجلاس میں آئی ایم ایف پروگرام کے تحت پیش رفت، ٹیکس نیٹ میں توسیع اور قوانین پر مؤثر عمل درآمد کے امور بھی زیر بحث آئے۔ اس کے علاوہ مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے صوبوں کے ساتھ رابطہ کاری اور مشرق وسطیٰ کے تنازع کے اثرات سے نمٹنے کے لیے توانائی کی مسلسل فراہمی یقینی بنانے کے اقدامات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔اجلاس میں موجودہ بجٹ کی مختص رقوم کے اندر رہتے ہوئے کمزور طبقات کو ہدفی ریلیف فراہم کرنے، موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کی صلاحیت بڑھانے، آفات سے نمٹنے کی تیاری اور ترقیاتی مالی معاونت کے مؤثر استعمال پر بھی گفتگو ہوئی۔

وزیر خزانہ نے مسلسل معاشی اصلاحات کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک دیگر ممالک کے ساتھ شراکت داری میں امداد پر انحصار کے بجائے تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے کی سمت آگے بڑھ رہا ہے۔