امریکی صدر کے خطاب کے دوران اسرائیلی پارلیمنٹ میں احتجاج، فلسطینی ریاست کے حق میں نعرے‘اسرائیل کا صدرٹرمپ کواعلی ترین شہری اعزاز دینے کافیصلہ

غزہ امن معاہدے پردستخط اسرائیلی‘فلسطینی قیدی رہا‘جذباتی مناظر ڈرائو نا خواب ختم ہوگیا:ٹرمپ
حماس نے20قیدی اور اسرائیل نے1966فلسطینیوں کو رہا کیا‘اسرائیل میں لوگ  جھنڈے لہراتے ہوئے غزہ کے قریب واقع فوجی کیمپ رئیم کے نزدیک جمع ہوئے‘ فلسطینیوں کا واپسی پر شاندار استقبال کیا گیا
جنگ ختم، مشرق وسطی کے ایک نئے تاریخی دور کا آغاز ہوچکا‘لوگوں کو لگ رہا تھا ہم غزہ میں امن کی کوششوں پر وقت ضائع کر رہے ہیں،غزہ میں توجہ اب تعمیر نو کی طرف ہونی چاہیے:ٹرمپ کااسرائیلی پارلیمنٹ سے خطاب
 غزہ،شرم الشیخ،تل ابیب (آئی  این پی‘مانیٹرنگ ڈیسک )فلسطینی مزاحمتی گروپ حماس نے پیر کو جنگ بندی کے معاہدے کے بعد غزہ میں موجود تمام 20 زندہ اسرائیلی یرغمالیوں کو 2 مرحلوں میں بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی کے حوالے کر دیا، اسرائیلی جیلوں سے فلسطینی قیدیوں کی رہائی کا عمل بھی شروع ہوگیا ہے اور قیدیوں کی 38 بسیں اسرائیل سے غزہ پہنچ گئیں۔فلسطینیو ں کی واپسی جذباتی مناظردیکھنے کو ملے‘اسرائیل میں لوگ اسرائیلی جھنڈے لہراتے ہوئے غزہ کے قریب واقع فوجی کیمپ رئیم کے نزدیک جمع ہوئے، جہاں یرغمالیوں کو لایا گیا۔تل ابیب کے یرغمالی چوک میں بھی سیکڑوں افراد جمع ہوئے، جنہوں نے اسرائیلی جھنڈے تھام رکھے تھے اور یرغمالیوں کی تصاویر والے پوسٹر بلند کر رکھے تھے۔  امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اسرائیلی پارلیمنٹ سے خطاب کے دوران بائیں بازوں کے ارکان پارلیمنٹ نے فلسطین کے حق میں احتجاج اور نعرے بازی کی، اس دوران ایوان میں شور شرابا بھی کیا گیا، تاہم سیکیورٹی اہلکار نے احتجاج کرنے والے رکن کو ایوان سے باہر کردیا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکا مشکل وقت میں اسرائیل کے ساتھ کھڑا رہا اور اسرائیل نے وہ سب کچھ جیت لیا جو طاقت کے بل پر جیتا جاسکتا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ 2 سالوں کی تاریکی اور قید و بند کے بعد 20 یرغمالی اپنے خاندانوں کے پاس واپس آرہے ہیں، یہ مشرقِ وسطی کے ایک نئے تاریخی دور کا آغاز ہے جب کہ اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی تاریخ ساز لمحہ ہے، یہ صرف جنگ کا اختتام نہیں بلکہ ایک نئی امید کا آغاز ہے۔انہوں نے کہا کہ مشرق وسطی کے ایک نئے تاریخی دور کا آغاز ہے، غزہ کے لوگوں کی توجہ اب تعمیر نو پر ہونی چاہیے، یہ اسرائیل اور پوری دنیا کے لیے غیر معمولی کامیابی ہے۔