لاہور(نیٹ نیوز)اوپر موجود تصویر کو دیکھیں جو بہت زیادہ دھندلی ہے یا یوں کہہ لیں کہ پکسلز کافی پھٹے ہوئے ہیں۔مگر یہ تصویر انسانی تاریخ میں بہت اہمیت کی حامل ہے کیونکہ اس نے موجودہ عہد میں آپ کے لیے فوٹوگرافی کا عمل بہت آسان بنا دیا۔یقین کرنا مشکل ہوگا مگر یہ دنیا کی پہلی ڈیجیٹل فوٹو ہے جو کہ اپنے عہد کی جدید ترین ٹیکنالوجی اور متعدد افراد کی باہمی کوششوں کا نتیجہ تھی۔اس تصویر نے لمحات کو کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کرنے کا عمل ہمیشہ کے لیے بدل دیا تھا۔یہ 1950 کی دہائی کی بات ہے جب ماہرین کی ایک ٹیم ڈیجیٹل امیجنگ کے خیال کو حقیقت کی شکل دینے کے طریقے تلاش کر رہی تھی۔ان ماہرین میں سے ایک امریکا کے نیشنل بیورو آف اسٹینڈرڈز (اب اسے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف اسٹینڈرڈز اینڈ ٹیکنالوجی کہا جاتا ہے) سے تعلق رکھنے والے انجینئر رسل اے کرسچ تھے۔1957 میں ان کی سربراہی میں ایک ٹیم نے دنیا کے پہلے ڈیجیٹل امیج اسکینر 'ڈرم اسکینر' کو تیار کیا۔اس سے کچھ عرصے قبل رسل کرسچ کے ہاں بیٹے کی پیدائش ہوئی تھی۔تو رسل کرسچ اور ان کی ٹیم نے 3 ماہ کے بچے کی سادہ 176×176 پکسلز ڈیجیٹل تصویر تیار کی۔اتنے کم ریزولوشن کی وجہ یہ تھی کہ کمپیوٹر کی میموری گنجائش محدود تھی۔یہ تصویر بلیک اینڈ وائٹ تھی اور اس نے ڈیجیٹل امیجنگ ٹیکنالوجی کے ارتقا کی راہ ہموار کر دی۔اس تصویر کو rudimentary فارمیٹ میں محفوظ کیا گیا تھا۔دنیا کی پہلی ڈیجیٹل تصویر کی تیاری کے لیے ایک اصل فوٹوگراف کو ڈرم اسکینر میں اسکین کیا گیا اور پھر اسے ڈیجیٹل فارمیٹ میں تبدیل کر دیا گیا۔اسکینر نے اس عمل کے لیے quantization نامی پراسیس کو استعمال کیا، جس کے دوران ہر پکسل کو binary کوڈ میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ویسے تو پہلی ڈیجیٹل فوٹو ایک بہت بڑا سنگ میل تھا مگر اس کے لیے ٹیم کو کافی چیلنجز سے گزرنا پڑا۔اس عہد میں کمپیوٹنگ پاور اور ڈیجیٹل تصاویر محفوظ کرنے کے لیے اسٹوریج محدود تھی اور اسی وجہ سے اس ٹیکنالوجی کا عمل استعمال کافی مشکل ہوگیا تھا۔درحقیقت پہلی تصویر کی تیاری کے بعد کافی عرصے بعد کمپیوٹنگ اور امیجنگ ٹیکنالوجی میں ہونے والی پیشرفت سے ڈیجیٹل فوٹوگرافی بڑے پیمانے پر قابل رسائی ہوئی۔