ظہران ممدانی کی کامیابی،کیا امریکہ بدل رہا ہے؟

 سید منیرحسین گیلانی
شعبہ تعلیم سے تعلق رکھنے والے پروفیسر محمود ممدانی اور فلم پروڈیوسر نرما نائر کے چونتیس سالہ بیٹے ظہران ممدانی امریکہ کی تاریخ میں پہلے مسلمان مئیر منتخب ہوگئے،جس پرمختلف جہتوں سے تبصرے جاری ہیں۔ اس سے پہلے پاکستانی نڑاد صاد ق خان لندن کے پہلے مسلمان مئیر منتخب ہوئے اور و ہ اپنی ذمہ داریاںنبھا رہے ہیں۔ ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار کے طور پر ظہران ممدانی کی نیویارک میں فتح حیران کن اس حوالے سے ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس کی بھرپور مخالفت کی اور ان پر الزامات بھی عائد کئے۔ لیکن اس کی منفرد انتخابی مہم کا حیران کن نتیجہ آیا۔ دنیا کی حالیہ تاریخ خاص طور پر امریکہ کی ریپبلکن حکومت میں اوراسرائیلی صیہونیت کے اثرو رسوخ کے باوجود انتخابی معرکے میںانسانیت کی دشمن دونوں قوتوں کو شکست ہوئی۔ گزشتہ دو سال سے زائد عرصے میں غزہ میں جاری انسانیت سوز مظالم دنیا بھر نے دیکھے ،ابھی تک کوئی فلسطینی مظلوموںکی آہوں سسکیوںکو خوشیوںمیں تبدیل نہیںکرسکا۔میں سمجھتا ہوں کہ اس کے ازالے کامعمولی حصہ اللہ تعالیٰ نے ہر دو شیطانی قوتوں کو نیویارک میں عبرت ناک شکست سے ظاہر کیااوراس میںسے ظہران ممدانی کی شکل میں چھوٹے طبقے کو جو کامیابی ملی ہے، اطمینان بخش ہے۔ برصغیر میں جغرافیائی سیاسی تبدیلی اوربانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح خوجہ فیملی سے تعلق رکھتے تھے ، ظہران ممدانی انہیں کے خاندان سے ہے۔ یہاں میں کسی کی ذاتی زندگی کو نہیں زیر بحث لانا چاہتا۔فرقہ وارانہ تعصبات سے لگتا ہے کہ ہم مسلمان نہیں رہے،فرقوں میں بٹ چکے ہیں۔ کھلے دل کا مالک ظہران ممدانی امریکی شہری ہے۔ہمارے لیے یہی کافی ہے کہ وہ مسلمان ہے ، جو مظلوم فلسطینی عوام کا حمایتی ہے۔
اس کے مسلک پر بحث ان لوگوں کی شروع کردہ ہے، جو اسرائیل اور امریکہ کی طرف سے مسلمانوں میں اختلافات پیدا کرنے کے لئے مختص بجٹ سے مستفید ہونے والے ہیں۔ پاکستان کے عام مسلمان کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ہم اس خطے میں رہنے والے ہیں کہ جہاں ایک دوسرے کے ساتھ رشتے داریاں ہیں۔ لہٰذا کسی قسم کا کوئی ایسا اقدام نہیں کرنا چاہیے جس سے مسلمانوں کی وحدت کو نقصان ہو۔ظہران ممدانی وہ نوجوان ہے جس نے اسٹیبلشمنٹ کو ناکام بنایا ہے ،یہ نوید ان لوگوں کے لئے ہے جن میں سوچنے کی صلاحیت ہے۔
مجھے یوگنڈا میںپید ا ہونے والے ظہران ممدانی کی ذاتی زندگی، نیویارک میں آمد،اس کی فلم پروڈیوسر ہندو والدہ ، مسلمان والد کے خاندانی پس منظر اور تارکین وطن کی صورتحال پر کوئی بات نہیں کرنی، سوائے اس کے کہ امریکہ کے سرمایہ دارانہ نظام کو ایک ایشیائی نوجوان باشندے نے اپنی انتخابی مہم سے جو شکست دی ہے ،اس سے بھی دنیا بھر کے اکثریتی طبقہ جسے بانی انقلاب اسلامی امام خمینی رحمتہ اللہ علیہ مستضعفین جہاں کہتے ہیں۔ اس مظلوم طبقے کے نمائندے نے عوامی حمایت سے امریکہ جیسے سرمایہ دارانہ نظام میں اپنی جگہ بنائی ، وہ دنیا کی بڑی سپر پاور میں نظام کی تبدیلی کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔
ظہران ممدانی سابقہ صدارتی امیدوار سینیٹربرنی سینڈرزکا لگایا ہوا پودا ہے ، امریکہ میں بڑی تعداد کے چھوٹے طبقے کے نمائندے نے اقلیتی
سرمایہ دارانہ طبقے کو شکست دے کر جو کامیابی حاصل کی ہے،اس سے مجھ سمیت کروڑوں پاکستانیوںکی آنکھیں کھل جانی چاہیئں کہ وہ بھی ایک بڑی طاقت ہیں۔ اگر ظہران ممدانی سرمایہ دارانہ نظام کے تسلط کو ختم کر کے عام طبقے کی نمائندگی کرسکتا ہے ، تو ہم بھی متحد ہوکر فرسودہ نظام کوختم کرنے کی صلاحیت پیدا کرسکتے ہیں، جس کے لیے آج سے 1400 سال پہلے ہمارے پیارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کے نمائندے مولائے کائنات امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام نے اقتدار ملنے کے بعد کہا تھاکہ جن لوگوں نے ناجائز طریقے سے دولت اکٹھی کی ہے اور نظام سے فائدہ اٹھا کر اونٹنیاں خریدی ہیں اور ان سے بچے بھی پیداہو گئے ہیںتو وہ بھی بیت المال میں واپس لے لیے جائیں گے اور انہوں نے ایسا کیا بھی۔ ظہران ممدانی کی انتخابی مہم میں اختیار کیا گیا طریقہ کار منفرد تھا،جس نے لوگوںکو بہت متاثر کیا اور رائے ہموار کرنے میں کردار ادا کیا۔ ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار کے طورپر ظہران ممدانی ، چونکہ پہلے بھی مقامی اسمبلی کا ممبرتھا، تو وہ جانتا تھا کہ نیویارک کے مسائل کیا ہیں ؟ ان مسائل کے حل اور ان سے آگاہی کے لیے شہریوںکے گھروں میں جا کر، سڑکوں پر کھڑے ہو کر آنے جانے والے امریکیوں کو ان کے مسائل سے آگاہ کرتا رہا اور ان کا حل بھی پیش کرتا رہا۔میں سمجھتا ہوں کہ چھوٹے طبقے کی خلوص دل سے نمائندگی کرتے ہوئے انہیں اپنائیت کا احساس دلایا جائے اور پیغام ان تک پہنچا دیا جائے تو وہ بھی بڑی نیک نیتی سے تبدیلی کے اس کارروان کے ہم سفر بن جاتے ہیں،اورپھر مقصد اورقافلہ مضبوط سے مضبوط تر ہوجاتا ہے۔ ظہران ممدانی کہتا ہے کہ فلسطینیوں کا قاتل نیتن یاہو اگر نیویارک میں آیا تو وہ اسے گرفتار کروادیں گے۔میرے نزدیک حماس کے ساتھ اسرائیل کی سیز فائر سے بھی مظلوموں کی بڑی کامیابی یہ ہے کہ نیویارک میں امریکی صدر کی مداخلت اور کوشش کے باوجود اس کے امیدوار کو ناکامی ہوئی ،اور فلسطین کے حامی کوکامیابی ملی۔ جبکہ اسرائیلی جارحیت اور انسانیت سوز مظالم کی حامی جماعت ریپبلکن کے امیدوارکونیویارک کے الیکشن میں منہ کی کھانا پڑی۔میں سمجھتا ہوں کہ دونوں امریکہ اورصیہونی حکومت آرام سے تو نہیں بیٹھیں گے، مسلمان مئیر کے خلاف سازشیں کریں گے، لیکن عوام کے اتحاد کے ساتھ وہ اس میدان میں بھی ناکام ہوں گے۔ میں دعاگوہوں کہ امریکی نظام میں چھوٹے طبقے کی نمائندگی اوران کے حقوق کا تحفظ کرنے کے لیے ظہران ممدانی کو اللہ تعالیٰ مزید قوت دے ،تاکہ انہوںنے نئی امید کی جو داغ بیل ڈالی ہے ،وہ دن بدن کامیابی کی طرف بڑھے۔۔۔۔END۔۔۔۔