پارٹی لائن کیخلاف ووٹ دینا انحراف ضمیر کے مطابق ووٹ دیا جائے تو شمار ہوگا اسحاق ڈار

 منحرف ہونے کے حوالے سے کلاز کلیئر ہے،سیف اللہ ابڑو کو معلوم تھا  قیمت ادا کرنی ہے لیکن انہوں نے ضمیر کے مطابق ووٹ دیا‘تحریری استعفے تک اعلان کی کوئی حیثیت نہیں
 دہشت گردی کے حوالے سے تمام اداروں کو بلا کر بریفنگ لی جائے‘افغانستان سے ایک مطالبہ کیا تھا  اپنی سرزمین کو پاکستان کیخلاف استعمال نہ ہونے دیں اور ٹی ٹی پی کو کنٹرول کریں
اسلام آباد(آئی این پی ) نائب وزیراعظم وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پارٹی لائن کے خلاف ووٹ دینا انحراف ہے مگر ضمیر کے مطابق ووٹ دیا جائے تو شمار ہوگا۔ جمعرات کوسینیٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ منحرف ہونے کے حوالے سے کلاز کلیئر ہے، پارٹی لائن کے خلاف ووٹ دینا انحراف ہے مگر ضمیر کے مطابق ووٹ شمار ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا رکن کو معلوم ہوتا ہے کہ انحراف کی قیمت کیا ہوتی ہے، سیف اللہ ابڑو کو معلوم تھا کہ قیمت ادا کرنی ہے لیکن انہوں نے ضمیر کے مطابق ووٹ دیا۔ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ جب تک تحریری استعفی نہیں آتا اعلان کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی، جب تک الیکشن کمیشن سے ڈی نوٹیفائی نہیں ہوجاتا رکنیت برقرار رہتی ہے اور پروسیجر مکمل ہونے تک سیف اللہ ابڑو اس ایوان کے رکن ہیں۔ پی ٹی آئی کے احتجاج پر نائب وزیراعظم نے کہا کہ ان لوگوں نے  سیاست کرنی ہوتی ہے جس کی ویڈیو بن کر پھر اڈیالہ جیل جاتی ہے۔انہوں نے کہا  ملک میں دہشت گردی کے حوالے سے تمام اداروں کو بلا کر بریفنگ لی جائے‘ 2021سے پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے‘پاکستان نے چار سال کے بعد کھلے دل سے افغانستان کے ساتھ تجارت،افغان مہاجرین اور دیگر مسائل پر بات کی اور اس پر ہماری جانب سے عمل درآمد کیا جاچکا ہے۔ اس حوالے سے افغان حکومت کے کابینہ ممبران اور اہم حکومتی عہدیداران سے ملاقاتیں ہوئیں ہم نے ان سے ایک مطالبہ کیا تھا کہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں اور ٹی ٹی پی کو کنٹرول کریں