لاہور(نیٹ نیوز )کہا جاتا کہ جانور (خاص طور پر پالتو کتے بلیاں) اپنے مالک پر آنے والی مصیبت، خطرے، یا کسی جسمانی و جذباتی تبدیلی کو پہلے سے بھانپ لیتے ہیں۔اس بات کی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ ان کے حواسِ خمسہ کی صلاحیت یعنی جانوروں کے سننے، سونگھنے اور دیکھنے کی صلاحیت انسانوں سے کہیں زیادہ ہوتی ہے وہ دور سے آنے والی آوازیں یا خطرے کی بو محسوس کرلیتے ہیں۔سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی متعدد ویڈیوز میں اکثر یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ پالتو کتے مستقبل میں پیش آنے والے واقعات کو پہلے ہی بھانپ لیتے ہیں، تاہم ماہرین کے مطابق حقیقت اس سے کچھ مختلف ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ کتوں کے پاس کوئی مافوق الفطرت طاقت نہیں ہوتی، لیکن ان کی حسِ سماعت، سونگھنے اور ماحول کو محسوس کرنے کی صلاحیت انسانوں کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ تیز ہوتی ہے، جس کی وجہ سے وہ بعض خطرات یا تبدیلیوں کا اندازہ انسانوں سے پہلے لگا لیتے ہیں۔تحقیق کے مطابق پالتو کتے انتہائی بلند فریکوئنسی کی آوازیں سن سکتے ہیں اور زمین میں آنے والی معمولی لرزش کو بھی جلد محسوس کر لیتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ بعض کتے زلزلے سے کئی گھنٹے قبل بے چینی اور غیر معمولی رویہ ظاہر کرنے لگتے ہیں۔ماہرین کے مطابق کتوں کا ‘‘فیلڈ آف ویڑن’’ بھی انسانوں سے زیادہ وسیع ہوتا ہے، جس کے باعث وہ دور کی حرکت یا تبدیلی کو جلد بھانپ لیتے ہیں۔ اگرچہ وہ انسانوں کی طرح باریک تفصیلات اور رنگ واضح نہیں دیکھ سکتے، تاہم ان کی سونگھنے کی حس غیرمعمولی حد تک طاقتور ہوتی ہے۔سائنسدانوں کے مطابق کتے انسانی پسینے یا سانس میں ہونے والی معمولی کیمیائی تبدیلیوں کو بھی محسوس کرلیتے ہیں، جس سے انہیں انسان کی ذہنی کیفیت، خوف، دباؤ اور بعض اوقات بیماریوں کے بارے میں اشارے مل جاتے ہیں۔