چیف الیکشن کمشنر کی وفاقی دارلحکومت میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کیلئے اقدامات اٹھانے کی ہدایت

اسلام آباد(آن لائن)چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے وفاقی دارلحکومت میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کیلئے فوری طور پر اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی ہے ،انہوںنے کہاکہ بلدیاتی انتخابات ایک آئینی تقاضہ ہے مگر اسلام آباد میں 5سالوں سے زائد یہ تقاضہ پورا نہیں کیا گیا۔بدھ کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے لئے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں اراکین الیکشن کمیشن کے علاوہ سیکرٹری الیکشن کمیشن ، سیکرٹری وزارت داخلہ ، چیف کمشنر اسلام آباد ، ڈپٹی کمشنر اسلام آباد و دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ چیف الیکشن کمشنر نے بلدیاتی حکومتوں کے قیام کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور کہا کہ خیبر پختونخوا ، سندھ اور بلوچستان میں مقامی حکومتیں موجود ہیں جبکہ پنجاب اور اسلام آباد میں الیکشن کمیشن کی کوششوں کے باوجود بلدیاتی قوانین میں تبدیلی کی وجہ سے بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں ہوسکا۔ انہوں نے کہاکہ آئین پاکستان کے آرٹیکل 140(A) کے تحت بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ایک آئینی تقاضا ہے۔ اجلاس کے دوران کمیشن کو بریف کیا گیا کہ اسلام آباد میں بلدیاتی اداروں کی معیاد 14فروری 2021  کو ختم ہوئی اورتاحال الیکشن منعقد نہیں ہوسکے۔ الیکشن کمیشن کو مزید بتایا گیا کہ وفاقی حکومت نے 10 جنوری 2026 کوآرڈیننس کے ذریعے اسلام آباد لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2015 میں ترامیم کیں اور ان ترامیم کے تحت الیکشن کروانے کے لئے الیکشن کمیشن کو ٹاون کارپوریشنز کی حدود کا نوٹیفکیشن ، ہرٹاون کارپوریشن میں یونین کونسلوں کی تعداد کا نوٹیفکیشن ، ٹاون کارپوریشنز کی حدود کے مطابق نقشہ جات ، آرڈیننس کے مطابق رولز اورالیکشن کمیشن کی طرف سے آرڈیننس میں تجویزکردہ ترامیم درکار ہیں۔ کمیشن کو بتایا گیا کہ متعدد بارمتعلقہ اداروں کی طرف سییہ یقین دہانی کروائی گئی کہ الیکشن کمیشن کو درکارنوٹیفکیشنز اور نقشہ جات ودیگر ڈیٹامہیا کردیا جائیگا۔ لیکن تاحال ایسا نہیں کیا گیا ۔ اجلاس کے دوران سیکرٹری داخلہ نے الیکشن کمیشن کو ہر ممکن معاونت کی یقین دہانی کروائی جب کہ چیف کمشنر اسلام آباد نے الیکشن کمیشن کو بریف کیا کہ ٹاون کارپوریشنز کی حدود اور ہر ٹاون میں یونین کونسلوں کی تعداد کا مجوزہ نوٹیفکیشن جاری کرنے کا کیس وزارت داخلہ کو بھجوا دیا گیا ہے۔ جوکہ متعلقہ سٹینڈنگ کمیٹی میں بھیجا جائیگا جس کی حتمی منظوری وفاقی کابینہ دے گی۔الیکشن کمیشن نے سیکرٹری داخلہ اور چیف کمشنر اسلام آبادکو ہدایت کی کہ متعلقہ سٹینڈ نگ کمیٹی اور وفاقی کابینہ سے فوری طور پر رجوع کرکے مذکورہ بالا نوٹیفکیشنز کے اجرا کو یقینی بنایا جائے ۔ اگر اس سلسلے میں کوئی پیش رفت نہ ہوئی تو اس کیس کو الیکشن کمیشن میں سماعت کیلئے مقرر کیا جائے گا۔ اور اگر ضرورت ہوئی تو یہ معاملہ مناسب لیول پر وفاقی حکومت کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔ اورمزید یہ کہ فوری طور پر الیکشن کمیشن کو درکار ڈیٹا ، نوٹیفکیشن ، نقشہ جات ، قانون ورولز میں ترامیم مہیا کی جائیں۔ تاکہ الیکشن کمیشن حلقہ بندی کا شیڈول جاری کرسکے اور وفاقی دارالخلافہ میں الیکشن کا انعقاد ممکن ہوسکے۔ چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ اس میٹنگ میں سینئر لیول افسران کی نمائندگی ہے لہذا الیکشن کمیشن توقع کرتا ہے کہ مذکورہ بالا معاملات خوش اسلوبی سے حل کرلیئے جائیں گے