اسلام آباد(آئی این پی )سابق وزیر خارجہ اور پی پی رہنما حنا ربانی کھر نے کہا ہے کہ ٹیکس وصولی کے ہتھکنڈے بھتہ خوری کے زمرے میں آتے ہیں۔انہوں نے یہ بات قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں کہی ۔اجلاس سید نوید قمر کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ جس میں فنانشل انسٹیٹوشنز ترمیمی بل 2026 پر غور کیا گیا۔ چیئرمین کمیٹی سید نوید قمر نے کہا کہ قانون میں بینکار کیلئے تو رعایت اور ضمانت رکھی گئی ہے، مگر قرض لینے والے کیلئے کوئی رعایت نہیں رکھی گئی۔ یہ رعایت یا تو دونوں کو دیں یا اس کو ختم کر دیں۔رکن کمی ٹی جاوید حنیف نے کہا کہ سرکاری افسران کو اچھی رضا پر فیصلہ دینے پر رعایت دی جاتی ہے، جس پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ بے شک وہ جان بوجھ کر غلط فیصلہ کرے۔اس موقع پر سابق وزیر خارجہ اور پی پی رہنما حنا ربانی کھر نے کہا کہ اس وقت ملک میں آئی ایم ایف کے کہنے پر دھڑا دھڑ قانون بنائے جا رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت اس وقت جو ٹیکس وصولی کے لیے ہتھکنڈے اپنا رہی ہے، وہ بھتہ خوری کے زمرے میں آتے ہیں۔ ملک میں اتنے زیادہ ٹیکس ہیں کہ کاروبار کرنا مشکل ہو گیا ہے۔