پنکی لاہور میں بیٹھ کر شہر شہر زہر بیچتی رہی‘3 روزہ جسمانی ریمانڈ کن اہم شخصیات کو منشیات دیتی رہی‘سب کے نام دیئے جائیں: چیئرمین داخلہ کمیٹی

چند سال قبل کوٹ لکھپت میں ملزمہ کا  بھائی منشیات فروخت کرتے  پکڑا گیا تھا‘انمول عرف پنکی فرار ہوگئی تھی‘بعد میں بھائی بھی  بری ہو گیا 
ملزمہ نے جانشین مقرر کرنے کے حوالے سے آڈیو میسج ریکارڈ کرایا تھا جس میں کہا تھا  میرے ساتھ کچھ ہو جاتا ہے تو میرے اسی نمبر سے کام چلتا رہے گا
لاہور(عدنان ملک)لاہور میں بیٹھ کر ملک بھر میں منشیات کا کالا دھندہ کرنے والی انمول عرف پنکی کی گرفتاری کے بعد انکشافات سامنے آئے ہیں۔ ملزمہ کے بھائی کے خلاف2022میں منشیات فروشی کا ایک مقدمہ درج ہو ا تھا، جس میں پنکی دوران پولیس ریڈ موقع واردات سے فرار ہو گئی تھی ، ملزم  کی بریت اور پولیس ریکارڈ میں نام شامل نہ ہونے جیسے حقائق نے کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ملک گیر منشیات اسمگلنگ نیٹ ورک کی اہم کردار انمول عرف پنکی کے بارے میں بتا یا گیا  ملزمہ لاہور میں بیٹھ کر کراچی، اسلام آباد اور دیگر صوبوں میں منشیات کا نیٹ ورک چلا رہی تھی۔یہ بھی انکشاف ہواہے چند سال قبل جب کوٹ لکھپت میں ملزمہ کا بھائی پکڑا گیا تھا تو ملی بھگت یا غفلت کی بنا پر انمول پنکی کا سی آر او ریکارڈ مرتب نہیں کیا گیا تھا، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ قانون کی نظروں سے اوجھل رہ کر اپنا نیٹ ورک چلاتی رہی تھی۔اس کا بھائی ریاض بلوچ بھی اپنے خلاف درج مقدمہ نمبری 73/22  بتاریخ 7 جنوری 2022 میں بری ہو چکا ہے ، پولیس حکام نے تفتیش کا دائرہ کار مزید وسیع کردیا ہے جس کے بعد پنکی ملزمہ سے ان کے گاہکوں کی تفصیلات بھی حاصل کی جا رہی ہیں تاکہ انہیں قانون کے دائرے میں لا یا جا سکے۔ریاض بلوچ کے بارے میں درج ایف آئی آر کے مطابق 2022 میں شاداب کالونی میں ایک لگژری گاڑی میں سوار لڑکا اور لڑکی منشیات فروخت کرنے پہنچے تھے، جہاں پولیس نے گھیرا ڈال کر لڑکے کو تو پکڑ لیا لیکن لڑکی پولیس پارٹی کو دیکھ کر گاڑی سمیت فرار ہو گئی۔ گرفتار نوجوان کی شناخت ریاض بلوچ ولد مراد بخش کے نام سے ہوئی جو انمول پنکی کا بھائی ہے جبکہ پنکی فرار ہو گئی تھی‘دریں اثناء کراچی میں منشیات فروش خاتون انمول عرف پنکی کا 3 روز کا جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا گیا ۔ ڈی آئی جی سائو تھ اسد رضا کا کہنا ہے کہ منشیات فروش انمول عرف پنکی کا 3 روز کا جسمانی ریمانڈ مل گیا۔ڈی آئی جی سائو تھ اسد رضا کے مطابق گزشتہ روز عدالت نے ملزمہ کی جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کردی تھی، ملزمہ کو  بدھ کو  دوبارہ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں پیش کیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ کہ عدالت کے روبرو  ملزمہ کے جسمانی ریماند کی دوبارہ استدعا کی گئی، جس پر عدالت نے  ملزمہ کا 3 روز کا جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا جبکہ اینٹی نارکوٹکس فورس(اے این ایف ) نے بھی ملزمہ کو گرفتار کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ دریں اثنا  ڈرگ کوئن  انمول پنکی نے اپنی گرفتاری سے قبل ہی اپنا جانشین مقرر کرلیا تھا، ملزمہ کی جانب سے اس حوالے سے آڈیو میسج کے ذریعے تمام کلائنٹس کو آگاہ کر دیا گیا تھا۔ رپورٹ کے  مطابق ملزمہ نے جانشین مقرر کرنے کے حوالے سے آڈیو میسج ریکارڈ کروا دیا تھا کہ اگر میرے ساتھ کچھ ہو جاتا ہے تو میرے اسی نمبر سے کام چلتا رہے گا۔ملزمہ انمول پنکی کا آڈیو میں کہنا تھا کہ میرے اسی نمبر سے آپ کیساتھ ایک جینٹس رابطے میں ہوں گے، میرے بعد کام سنبھالنے والا میرا دوست ہوگا وہ تمام معاملات بتادے گا۔علاوہ ازیںچیئرمین داخلہ کمیٹی فیصل سلیم نے انمول عرف پنکی کے حوالے سے این ایف سمیت تمام اداروں سے ریکارڈ طلب کیا ہے کہ منشیات جن کو سپلائی ہوئیں سب کے ڈرگ ٹیسٹ کرائے جائیں۔یہاں  میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے چیئرمین داخلہ کمیٹی نے کہا کہ انمول عرف پنکی کے حوالے سے این ایف سمیت تمام اداروں سے ریکارڈ طلب کیا ہے، پنکی کہاں کہاں منشیات سپلائی کرتی تھی اس حوالے سے ریکارڈ طلب کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ سیکرٹری داخلہ مکمل تفصیلات فراہم کرے چاہے کس کو منشیات سپلائی ہوئیں،،وہ پارلیمنٹیرینز ہوں، جج ہوں طلباء ہوں ریکارڈ پیش کیا جائے، سب کے ڈرگ ٹیسٹنگ کروائے جائے سب سے پہلا میرا ٹیسٹ کروائے،کسی کو نہیں چھوڑیں گے۔