جنوبی وزیرستان کے علاقے اعظم ورسک میں مسجد کے اندر دھماکا ہوا جس کے نتیجے میں جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے رہنما مولانا عبداللہ زخمی ہو گئے۔
پولیس ذرائع کے مطابق دھماکا نماز کے دوران ہوا، اور اس کے نتیجے میں مولانا عبداللہ سمیت کئی افراد زخمی ہوئے۔ فوری طور پر پولیس اور ریسکیو ٹیمیں جائے وقوع پر پہنچیں اور زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا۔ریسکیو ذرائع کے مطابق زخمیوں کو ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال وانا منتقل کردیا گیا ہے جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ دھماکے کے بعد پولیس نے علاقے کو گھیر لیا اور تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ دھماکے کی نوعیت اور وجہ کا ابھی تک تعین نہیں ہو سکا۔ پولیس اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ آیا یہ دھماکہ دہشت گردی کی کارروائی کا حصہ تھا یا اس کے پیچھے کوئی اور وجہ تھی۔ تحقیقات جاری ہیں اور مزید تفصیلات آنے کی توقع ہے۔اس واقعے کی اطلاع کے بعد علاقے میں خوف و ہراس کی لہر دوڑ گئی ہے، جبکہ مقامی افراد کی جانب سے دھماکے کی مذمت کی جا رہی ہے۔