پارلیمنٹ بھی آئین کے تابع ہے‘آرمی ایکٹ بنایا ہی اسی لیے جاتا ہے فوج کو ڈسپلن میں رکھا جا سکے، سوال یہ ہے استثنی صرف آرمڈ فورسز تک ہے یا دائرہ سویلینز تک بڑھایا جاسکتا ہے:ریمارکس
کیا فوجی عدالتیں آرٹیکل 175 کے زمرے میں آتی ہیں؟کیا فوجی عدالت بھی عام عدالت کے معیار کی ہی عدالت ہوتی ہے؟جسٹس مسرت ہلالی‘کیس کی سماعت عید کے بعد تک ملتوی
اسلام آباد(آن لائن )سپریم کورٹ کے آئینی بنچ نے سویلینز کے ملٹری ٹرائل سے متعلق کیس کی سماعت عیدکے بعدتک ملتوی کردی جبکہ جسٹس امین الدین خان نے اہم ریمارکس دیئے آرمی ایکٹ کی شق ٹو ون ڈی کو کالعدم قرار دینے کی حد تک فیصلہ درست نہیں، جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے ہیں کہ میری رائے میں پارلیمنٹ کے بجائے آئینِ پاکستان سپریم ہے کیونکہ پارلیمنٹ بھی آئین کے تابع ہے۔آرمی ایکٹ بنایا ہی اسی لیے جاتا ہے کہ فوج کو ڈسپلن میں رکھا جا سکے، آرٹیکل 8(3) میں بنیادی حقوق سے استثنا دیا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ استثنا صرف آرمڈ فورسز تک ہے یا اس کا دائرہ سویلینز تک بڑھایا جاسکتا ہے؟جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیے کہ گزشتہ سال سے یہ کیس چل رہا اور مجھے سوال کا کا جواب نہیں مل رہا۔ کیا فوجی عدالتیں آرٹیکل 175 کے زمرے میں آتی ہیں؟۔ کیا فوجی عدالت بھی عام عدالت کے معیار کی ہی عدالت ہوتی ہے؟خواجہ حارث نے کہا کہ میرا اگلا نکتہ یہی ہے اس سوال کا جواب دوں گا پہلے آرٹیکل 8 پر مطمئن کر لوں،انھوں نے یہ دلائل جمعرات کے روزدیے ہیں ،جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 7 رکنی آئینی بینچ نے ملٹری کورٹس میں سویلینز کے ٹرائل سے متعلق کیس کی سماعت کی، جس میں وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث نے اپنے دلائل دیے۔دورانِ سماعت جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آرمی ایکٹ بنایا ہی اسی لیے جاتا ہے کہ فوج کو ڈسپلن میں رکھا جا سکے۔ خواجہ حارث نے کہا کہ قانون کا اطلاق کس پر ہونا ہے اور کیسے ہونا ہے یہ طے کرنا پارلیمنٹ کا کام ہے۔