دہشتگردی ختم نہ ہوئی تو ترقی کا سفر رْک جائیگا، پورے پاکستان کی سیاسی قیادت مل کر بیٹھے، آرمڈ فورس کی لیڈرشپ کو بھی بٹھائیں گے، اتفاق رائے پیدا کرنا ہوگا:وزیراعظم

دہشت گردی فوج کو جتنے وسائل چاہئیں دوں گا شہبازشریف

ملک میں امن و امان کی صورتحال پر اے پی سی بلائیں گے‘جو ہو گیا وہ ہوگیا، ہوش کے ناخن لیں، اب آگے بڑھنا ہوگا،پاکستان ہے تو ہم سب ہیں، ہم سب کو دہشت گردی کے خلاف متحد ہونا ہوگا، ملک کو قومی یکجہتی کی ضرورت ہے
پاکستان ایسے حادثات کا متحمل نہیں ہو سکتا، اگر ہم نے دہشت گردی کے ناسور کو ختم نہ کیا تو پاکستان کے وجود کو خطرہ ہو سکتا ہے، امن کیلئے تمام فریقین کو کردارادا کرنا ہوگا:کوئٹہ میں اجلاس میں گفتگو

کوئٹہ(مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ملک میں امن و امان کی صورتحال پر اے پی سی بلانے کا اعلان کر دیا اور کہا کہ اگر دہشت گردی ختم نہ ہوئی تو ترقی کا سفر رْک جائے گا۔امن وامان سے متعلق اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا  جو ہو گیا وہ ہوگیا، ہوش کے ناخن لیں، اب آگے بڑھنا ہوگا، پورے پاکستان کی سیاسی قیادت بیٹھے، آرمڈ فورس کی لیڈرشپ کو بھی بٹھائیں گے، اتفاق رائے پیدا کرنا ہوگا۔شہباز شریف نے کہا کہ افواج کو جتنے وسائل چاہئیں مہیا کروں گا، اگر پاکستان ہے تو ہم سب ہیں، ہم سب کو دہشت گردی کے خلاف متحد ہونا ہوگا، ملک کو قومی یکجہتی کی ضرورت ہے۔ سانحہ جعفر ایکسپریس پر پوری قوم اشکبار ہے، 400 سے زیادہ نہتے لوگوں کو یرغمال بنایا گیا۔ واقعہ سے نمٹنے کے لیے سکیورٹی فورسز نے کامیاب حکمت عملی اپنائی، ضرار کمپنی نے مشکل صورتحال میں بہترین کارکردگی دکھاتے ہوئے 339 جانوں کو بچایا۔شہباز شریف نے 33 دہشت گردوں کو جہنم واصل کرنے پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ پاکستان ایسے حادثات کا متحمل نہیں ہو سکتا، اگر ہم نے دہشت گردی کے ناسور کو ختم نہ کیا تو پاکستان کے وجود کو خطرہ ہو سکتا ہے، امن کیلئے تمام فریقین کو کردارادا کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ 2018 میں دہشت گردی کا خاتمہ ہو گیا تھا، دہشت گردی کیخلاف جنگ میں 80 ہزار شہادتیں ہوئیں، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں معیشت کو تباہ کن نقصان پہنچا، دوبارہ اس ناسور نے سر کیوں اٹھایا ہے؟وزیراعظم نے کہا کہ ہزاروں طالبان کو رہا کیا گیا، طالبان سے دل کا رشتہ بتانے والوں نے طالبان کو چھوڑا، بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے جڑ سے خاتمے تک پاکستان میں مکمل امن نہیں ہوسکتا، چاروں صوبائی حکومتوں اور وفاق کو دہشتگردی کیخلاف اپنا حصہ ڈالنا ہو گا۔ بدقسمتی سے اس واقعہ میں جس طرح کی گفتگو کی گئی وہ زبان پر نہیں لائی جا سکتی، اندر سے دشمن نما پاکستان اور فوج کے خلاف زہر اگل رہے ہیں، ہمارا مشرقی دشمن زہرا گل رہا ہے، اپنی ہی فوج کو تنقید کا نشانہ بنایا جائے تو اندازہ کریں ملک کا کیا حال ہوگا؟۔ ملک کو ایک سال میں معاشی میدان میں بہتری کی طرف لے کر آئے، ڈیفالٹ کی باتیں کرنے والے ہماری معاشی کامیابیوں پر حیران ہیں۔