ایل ڈی اے کی کمرشلائزیشن میں ریکارڈسفٹنگ رکاوٹ

لاہور ( کرائم رپورٹر)ایل ڈی اے کی کمرشلائزیشن اور ریکوری میں ریکارڈ سفٹنگ بڑی رکاوٹ بننے لگی ہے۔سینکڑوں کیسز صرف اس لیے التوا کا شکار ہیں کہ متعلقہ فائلیں بروقت متعلقہ شعبوں تک پہنچ ہی نہیں سکیں۔ذرائع کے مطابق کمرشلائزیشن سے متعلق جمع شدہ 200 سے زائد کیسزریکارڈ کی عدم دستیابی کے باعث زیر التوا ہیں۔ایل ڈی اے نے آمدن بڑھانے کے لییشہر کی آٹھ بڑی سڑکوں کو کمرشل قرار دیا تھا،جس کے بعد املاک مالکان نیاپنے پلاٹ کمرشل کرانے کے لیے ایل ڈی اے سے رجوع کیا،مگر اندرونی نظام کی سست روی اور فرسودگی ان درخواستوں کی منظوری میں رکاوٹ بن گئی۔سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں جوہر ٹاو?ن، سبزہ زار، رائیونڈ روڈاور مولانا شوکت علی روڈ شامل ہیں ،جہاں 150 سے زائد کیسز فائلوں کی سفٹنگ نہ ہونے کے باعث التوا کا شکار ہیں۔املاک مالکان کی جانب سے جمع کرائی گئی درخواستیں ملکیتی تصدیق کے لیے متعلقہ شعبے میں سفٹنگ کا انتظار کر رہی ہیں،مگر فائلیں وہیں کی وہیں دبی پڑی ہیں۔یہی نہیں، بلکہ ون ونڈو پر جاری کی گئی ڈیڈ لائنز پر بھی کمرشلائزیشن کے عمل کو مکمل نہ کیا جا سکا۔ ایل ڈی اے کروڑوں روپے کی ممکنہ آمدن سے محروم ہوگیا۔